کوئٹہ میں بسوں کو شہر میں داخلے سے روکنا مسافروں کیلئے پریشانی کا باعث ہے، متحدہ لوکل بس فیڈریشن
کوئٹہ (آن لائن) متحدہ لوکل بس فیڈریشن کے چیئرمین حاجی اختر جان کاکڑ نے کہا ہے کہ لوکل بسوں کو 2006 کی پوزیشن پر سرکلر اڈے تک آنے کی اجازت دی جائے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے لوکل بسوں کو کوئلہ پھاٹک اور ریلوے اسٹیشن پر روکا جارہا ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ کے نواحی علاقوں سے شہر آنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ہم نے اپنی بسیں کھڑی کرکے احتجاج شروع کیا ہے اور ہمیں کہا جارہا ہے کہ جمعرات کو عدالتی فیصلے تک اپنی گاڑیوں یہاں پر روکے ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں یہ بات انہوں نے اپنے دیگر عہدیداروں شیر احمد بلوچ، حاجی اسحاق بازئی، انور بنگلزئی، حنیف شاہوانی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ روز اول سے ہی کوئٹہ کے نواحی علاقوں بلیلی، نواں کلی، بروری، سریاب، سبزل روڈ پشتون آباد، قمبرانی روڈ سمیت دیگر نواحی علاقوں سے لوکل بسیں مسافروں کو لیکر شہر کی جانب سرکلر روڈ پر واقع بس اڈے میں آتی تھی 2006 تک یہی سروس جاری رہی جس کے بعد اڈے کی تعمیر کا بہانہ بناکر اس کو کئی سال تک التوا کا شکار رہا اور ان علاقوں سے آنے والی لوکل بسوں کو شہر کی مختلف سڑکوں پر سٹاپ مہیا کئے گئے تاکہ شہر کے وسط میں لوگوں کو خریداری اور امور کی انجام دہی کے لئے آسانی میسر ہو گزشتہ کچھ عرصے سے عدالتی احکامات پر ڈپٹی کمشنر نے عملدرآمد کرتے ہوئے ٹرانسپورٹروں کو اعتماد میں لئے بغیر پشتون علاقوں سے آنے والی بسوں کو کوئلہ پھاٹک پر اور بلوچ علاقوں سے آنے والی لوکل بسوں کو ریلوے اسٹیشن پر رکنے کے لئے ہدایت کی گئی ان بسوں میں بزرگ خواتین، بچے آتے ہیں وہ ان مقامات سے بازار یا دیگر مقامات سمیت علاقوں تک با آسانی کیسے جاسکتے ہیں۔ پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑھے ہوئے اضافے نے ٹرانسپورٹروں لوگوں کی مشکلات میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی اس کے سدباب کے لئے اقدامات ا ٹھانے کی ضرورت ہے انتظامیہ نے تا حال ہمارے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا صرف ہمیں جمعرات کو عدالتی فیصلے تک ان مقامات پر گاڑیاں کھڑی کرنے کے لئے کہا جارہا ہے۔


