مبارک قاضی کی وفات پر بلوچستان کی سیاسی، مذہبی، حکومتی اور سماجی شخصیات کا اظہار افسوس

گوادر (آن لائن)مبارک قاضی کی رحلت ایک قومی سانحہ قرار،بلوچی زبان ایک اچھے شاعر سے محروم ہوگیا، پسنی میں تین روزہ سوگ کا اعلان،نگران وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان ڈومکی، بی این پی عوامی کے سربراہ میر اسرار اللہ خان زہری، بی این پی کے سربراہ سرداراخترمینگل،نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ،سابق ایم پی اے گوادر میر حمل کلمتی،معروف شخصیت میرامام بزنجو،ساجداسحاق دشتی،چئیرمین گوادر پورٹ پسند خان بلیدی،بابو گلاب،حق دو تحریک کے چئیرمین حسین واڈیلہ،مولاناہدایت الرحمان،سابق ایم این اے میر یعقوب بزنجونے مبارک قاضی کے انتقال پر اپنے تعزیت پیغام میں کہا ہے کہ مبارک قاضی کی رحلت ایک قومی سانحہ ہیبی این پی کے سربراہ سرداراخترمینگل نے کہا کہ بلوچی زبان کے عظیم شاعرو ادیب مبارک قاضی نے بلوچی زبان کے ترقی اور ترویج میں کلیدی کردارادا کیا اسکی ناگہانی وفات پر بہت دکھ ہوا انہوں نے کہا کہ مبار ک قاضی شاعری کی دنیا میں ایک الگ پہچان کے مالک تھے اور اسکی شاعری بلوچی ادب زبان اور بلوچ قومی تحریک میں صدیوں تک یاد رکھی جائے گی مرحوم کی کوششوں اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نصف صدی تک مبارک قاضی نے اپنی شاعری سے بلوچ ادب کو متاثر کیا انکی وفات سے جو خلا بلوچی ادب اور شاعری کی دنیا میں پیدا ہوا اسے پرکرنا ممکن نہیں سرداراخترمینگل نے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بزرگ انقلابی شاعر واجہ مبارک قاضی کے وفات کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ مبارک قاضی بلوچ ادب کے وہ درفشاں ستارہ تھے جس نے جدید بلوچی شاعری کو نئی شکل دیکر بلوچستان کے حالات و جبر پر آواز بلند کی۔ مبارک قاضی اپنی شاعری کے توسط سے بلوچستان کا مقدمہ لڑتے رہے جسکی پاداش میں انہوں نے قید و بند کی صعبوتیں برداشت کیے۔ بلوچ سرزمین شعرا و دانشور جنم دینے کے حوالے سے کافی زرخیز اپنی مثال آپ رہی ہے اور مبارک قاضی اسی سرزمین سے جنم لینے والے فرزندوں میں سے ایک تھے جس نے مادر وطن میں ہونے والے مظالم کے اپنے انوکھے شاعری میں احسن طریقے سے آشکار کیا۔بی ایس او کے نے کہا ہے کہ مبارک قاضی اپنے عصر کے تمام شعرا سے نہ صرف مختلف تھے بلکہ بین القوامی سطح پر ایک مقام رکھتے تھے۔ ادب اود شاعری کو بروئے کار لاکر انہوں نے زبردست مزاحمت کی۔ مبارک قاضی کی شاعری مزاحمت کی علامت ہے۔ زمانہ طالب علمی میں ہی طلبا سیاست میں متحرک رہتے ہوئے وہ بلوچ طلبا کی رہنمائی کرتے رہے۔ واجہ مبارک قاضی نے آخری دم تک اپنے اصولی موقف کے زریعے سرزمین کا مقدمہ لڑتے رہے جو بلوچ قومی تحریک اور تاریخ میں تا ابد نقش رہے گا۔ترجمان نے بیان کے آخر میں بلوچ قومی شاعر واجہ مبارک قاضی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رحلت سے بلوچ قوم ایک عظیم ہستی سے محروم ہو گیا ہے جس کی کمی صدیوں تک محسوس کی جائے گی لیکن مبارک قاضی نے اپنی شاعری اور ذہانت سے بلوچ قوم کو جو تحفے دئیے ہیں وہ نسلوں تک بلوچ قومی سرمایہ کا حصہ تصور ہوں گے۔سابق ایم این اے میر یعقوب امام بزنجو نے اپنے ایک تعزیتیپیغاممیں کہا ہے کہ بلوچی زبان کے عظیم شاعر مبارک قاضی کی ناگہانی وفات پر دلی افسوس اور دکھ ہوا، مبارک قاضی بلوچی زبان اور ادب کا سفیر تھا انکی ناگہانی موت بلوچ ادب اور شاعری کے لیے ایک عظیم سانحہ سے کم نہیں، انہوں نے کہا کہ قاضی صاحب کی موت سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے وہ برسوں پر نہیں ہو گا اللہ پاک انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام پر جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے، ہم اس غم میں قاضی فیملی کے ساتھ برابر کے شریک ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں