پشین سے تعلق رکھنے والے قاضی فائز عیسیٰ 29ویں چیف جسٹس آف پاکستان بن گئے

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے شہر پشین سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عہدے کا حلف اٹھاکر پاکستان کے 29ویں چیف جسٹس آف پاکستان بن گئے، بلوچستان سمیت پاکستان بھر کی عوام کا جسٹس قاضی فائز عیسی سے انصاف اور خصوصا بلوچستان کے ساتھ ناانصافیوں کے خاتمے و سدباب کی توقعات وابستہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے پشین سے تعلق رکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس بن گئے، صدر مملکت عارف علوی نےان سے حلف لیا ، وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سابق چیف جسٹس صاحبان، ججز اور ممتاز وکلا بھی موجود تھے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گزشتہ ماہ جون میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج قاضی فائز عیسیٰ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شمال میں واقع ضلع پشین کے ضلعی ہیڈکوارٹر پشین میں 26 اکتوبر 1959 کو پیدا ہوئے۔ پشتون قوم کی ذیلی شاخ بارکزئی (درانی) قبیلے سے تعلق رکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دادا قاضی جلال الدین انیسویں صدی میں قندھار میں قاضی تھے، جو بعد ازاں اپنے ہی قبیلے کے برسر اقتدار شاہ افغانستان امیر شیرعلی خان بارکزئی سے اختلافات کی وجہ سے مستقل طور پر پشین شہر منتقل ہوئے، قاضی جلال الدین بلوچستان کے ریاست قلات کے وزیراعظم بھی رہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد قاضی محمد عیسیٰ اور تایا قاضی محمد موسیٰ نے انگلستان سے تعلیم حاصل کی۔ قاضی محمد عیسیٰ بلوچستان کے پہلے بیرسٹر اور چچا پہلے کمرشل پائیلٹ بنے۔ قاضی محمد عیسیٰ محمد علی جناح کی زیر قیادت پاکستان مسلم لیگ بلوچستان کے اولین صوبائی صدر اور محمد علی جناح کے سب سے معتمد اور قریبی ساتھی رہے۔ قاضی عیسیٰ کی دعوت پرمحمد علی جناح پشین شہر بھی تشریف لائے اور ان کے ہاں مقیم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد قاضی محمد عیسیٰ 1951 سے 1953 تک برازیل میں پاکستان کے سفیر رہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لندن سے اپنی بار ایٹ لاء کی تعلیم کی تکمیل کے بعد 1985 میں کراچی سے اپنی وکالت کا آغاز کیا اور 1998 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ آپ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ ہائیکورٹ بار کے رکن رہے، 2009 سے 2014 تک بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 2014 میں سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے۔ نو سال تک بطور جج سپریم کورٹ رہنے کے بعد بدھ 21 جنوری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان تعینات ہوئے۔تین نومبر 2007 کو سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کرنے اور ججز سے نیا حلف لینے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ نے پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججز کے سامنے بطوروکیل پیش ہونے سے انکار کردیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے تین نومبر 2007کی ایمرجنسی کے اقدام کو کالعدم قراردینے کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ کے تمام ججز کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا تھا جس کے بعدسابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو براہ راست پانچ اگست2009کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقررکیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پانچ ستمبر 2014کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج مقرر کیاگیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے بیرون ملک بے نامی جائیدادیں بنانے کے الزام پر صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا جسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے 10رکنی لارجر بینچ نے موجودہ چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی متفقہ طور پر یہ ریفرنس کالعد م قراردے دیا تھا۔تاہم بینچ کے سات ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو اختیار دیا تھا کہ وہ خود تحقیقات کروا کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کوئی کارروائی کرنا چاہے تو کرسکتی ہے لیکن بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کو تحقیقات کرنے کااختیار دینے کے حوالے سے بھی فیصلہ چھ، چار کی اکثریت سے مسترد کردیا گیا جس کے بعد ان کے خلاف تمام ترتحقیقات ختم کردی گئی تھیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے واحد جج ہیں جنہوں نے اپنی اور اپنی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈالی ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے16ستمبر ہفتہ کے روز ریٹائرڈ ہونے کے بعد17 ستمبر2023کو پاکستان کے نئے چیف جسٹس بنیں گئے اور 25اکتوبر2024کو اپنی65سالہ مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد تقریبا ایک سال اور ڈیڑھ ماہ تک ملک کے چیف جسٹس رہنے کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں