شپ بریکنگ یارڈ میں کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے کے نوٹیفکیشن پر عمل کیا جائے، ایمپلائز یونین
کوئٹہ(این این آئی)گڈانی محنت کش ایمپلائز یونین بلوچستان کے صدر حاجی عبدالعزیز شاہوانی جنرل سیکرٹری عابد بٹ نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بی ڈی اے انتظامیہ اور گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے حکام کو صوبائی حکومت کے کم سے کم اجرت کے نوٹیفکیشن 32 ہزر روپے پر عملدرآمد کیلئے سختی سے پابند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں غریب ملازمین اور مزدور وں کو ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں موجودہ کم اجرت اور مہنگائی کے تناسب سے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے مقرر کی گئی اس قانون پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور اس قانون پر عمل نہ کرنے والے حکام قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں بحیرہ عرب کے شمال میں دنیا کی مشہور ساحلی پٹی پراپنے وقت کی دنیا کی سب سے بڑی شپ بریکنگ یاڈ کے حوالے سے مشہور اور بلوچستان میں گڈانی کے مقام بڑی صنعت گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں غریب محنت کش تاحال اس قانون سے مستفید نہیں ہورہے اور نہ ہی سابقہ ادوار میں یہاں کم سے کم اجرت کے قانون پر عمل کیا گیا۔ بلوچستان حکومت اور صوبائی وزرائ محنت و افرادی قوت اور وزیر صنعت بلوچستان گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں اس قانون پر عمل کیلئے ادارے کے حکام فوری پابند کریں تاکہ غریب ملازمین کو مہنگائی میں کچھ حد تک ریلیف مل سکے۔ بصورت دیگر گڈانی محنت کش ایمپلائز یونین بلوچستان لیبر فیڈریشن کے ساتھ مل کر کم سے کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد کیلئے محکمہ لیبرحکومت بلوچستان کی اس حوالے سے متعلقہ کمیٹی اور محکمہ لائ کو آگاہ کرکے قانوننی چارہ جوئی کا مطالبہ کرے گی۔


