سیندک اور ریکوڈک جیسی سرزمین پر بسنے والے مقامی افراد کی زندگی میں کوئی بدلاﺅ نہیں آسکا
نوکنڈی(آن لائن)عوامی حلقوں نے کہاہے کہ کسی بھی علاقہ میں قدرتی معدنیات کی موجودگی سے اس علاقہ کی تقدیر ہی بدل جاتی ہے وہ علاقہ ترقی یافتہ اور لوگ خوشحال دکھائی دیں گے مگر آپکو سیندک کے علاقوں کی حالت دیکھ کر حیرانگی ہوگی ان خیالات کااظہار سیندک کے عوامی حلقوں نے ”آن لائن“نیو نیٹ ور ک سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بیس سالوں سے پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے اشتراک سے سونے تانبے اور دیگر قیمتی معدنیات کے سرزمین پر بسنے والے مقامی لوگوں کی زندگی میں کوئی بدلا نہیں آیا ہے خصوصاً تعلیمی حوالے سے سیندک کو پسماندہ رکھ یہاں کے لوگوں کو تعلیم سے محروم رکھا جارہا ہے اس وقت سیندک اور قریبی علاقہ کچھاو کے تقریباً دس کے قریب دیہاتوں میں اکثر کلیوں میں سکول تک نہیں ہے گرلز سکول تو خواب بن کر رہ گیاہے جبکہ گورنمنٹ بوائز مڈل سکول کلی حمل آب میں ہے جو اس مقام سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں جہاں سونے اور چاندی کو پگھلا کر زہریلی گیس دھویں کی شکل میں ان کے حصہ میں مل رہی ہے جس سے مختلف خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہے حمل آب سکول میں جماعت ہشتم تک جماعتوں میں 80 سے زاید بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں مگر استاد ایک اور کلاس رومز دوہیں جنھیں تیس سال پہلے بلوچستان حکومت کی جانب سے تعمیر کیاگیاتھا انہوں نے کہاکہ جواب بوسیدہ ہوکر کھنڈرات کامنظرپیش کررہی ہےسکول کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے سکول گندگی کاڈھیربن گیاہے انہوں نے کہاکہ بجلی پانی اور لیٹرین کی سہولت تک نہیں یادرہے کہ سیندک پروجیکٹ کی جانب سے سالانہ اربوں روپے سی ایس آر فنڈز کے ترقیاتی کاموں کے اشتہارات اورتعریفیں پڑھنے کو ملیں گے مگر ان ترقیاتی کاموں میں سیںندک کے اپنے علاقے یکسر محروم چلے آرہے ہیں جبکہ ملکی وانٹرنیشنل مائنز قوانین میں سب سے پہلی ترجیع مقامی آبادی اور قریبی علاقوں کی ہوتی ہے مگر حمل آب سکول کی حالت سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پروجیکٹ انتظامیہ نے سی ایس آر فنڈز سے یہاں کون سی ترقی دی ہے ایک رپورٹ کےمطابق کہ گذشتہ دوسالوں سے کمپنی منیجمنٹ کو تحریرا سکول کی مرمت اور نئے بلڈنگ کی تعمیر کے حوالے سے درخواست کی گئی جس پر کمپنی کے ذمہ داروں نے سکول کاوزٹ کرکے جلدکام کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر دوسال گزرنے کے باوجود تاحال ایک وائٹ واش تک اس سکول میں نہیں کی گئی علاہ ازیں محکمہ تعلیم چاغی کے پاس بھی سالانہ کروڑوں روپے سکولوں کی مرمت کے لئے فنڈز آتے ہیں مگر بدقسمتی سے وہ بھی عوامی نمائندوں معتبرین اور بااثرشخصیات کے پسند پر ایسے سکولوں پرخرچ کئے جاتے ہیں جہاں کسی کام کی ضرورت ہی نہیں ہوتی انہوں نے کہاکہ سیندک پروجیکٹ انتظامیہ کو اپنی تعلیم دشمن پالیسی رکھنے والے چند آفیسران کی خواہش کے برعکس کلی حمل آب سکول میں نئے بلڈنگ کی منظوری کے ساتھ فوری طور پر اسے مرمت کرکے تمام سہولیات فراہم کرنا چائیے تاکہ اساتذہ اور بچوں کو درس وتدریس کے دوران مشکلات کاسامنا نہ ہو محکمہ تعلیم چاغی کو بھی ضلعی ہیڈکوارٹر سے نکل کر دور دراز دیہاتوں کے سکولوں پرتوجہ دیناچائیے۔


