نواز شریف کی وطن واپسی کا ہم سے کوئی تعلق ہے نہ اس حوالے سے ہم نے کوئی فیصلہ کرنا ہے ،مرتضی سولنگی
اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کا نگران حکومت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہم نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا ہے ۔ جنوری میں انتخابات کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے بیان کا الیکشن کمیشن آف پاکستان مناسب جواب دے گا ۔ قومی اور سوشل میڈیا میں فرق ختم ہو کر رہ گیا ہے ذمہ دار صحافت اور غیر ذمہ دار صحافت کہاں سے شروع ہوتی ہے کہاں ختم ہوتی ہے تعین مشکل ہو گیا ہے ۔ باہمی گفتگو سے انتخابی ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں صحافی فاروق عادل کی کتاب ” ہم نے جو بھلا دیا ” کی تقریب رونمائی سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کی صدارت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر محمود چوہدری ، ممتاز دانشور پروفیسر فتح ملک ، جبار مرزا ، خورشید ندیم اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں مرتضی سولنگی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک بہت بڑی جماعت کے سربراہ ہیں جس طرح جنوری میں انتخابات کے معاملے پر ہم سب نے مولانا کا بیان دیکھا ہے الیکشن کمیشن نے بھی دیکھ لیا ہو گا وہی اس کا مناسب جواب دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے میں وہی دیکھ رہا ہوں جو الیکشن کمیشن دیکھ رہا ہے اور وہ جس تاریخ کو انتخابات کرائیں گے ہم تو مدد کرنے کے پابند ہیں ۔ جنوری ، فروری میں انتخابات کے انعقاد کی روایت موجود ہونے سے متعلق وزیر اطلاعات نے کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں مرتضی سولنگی نے کہا نواز شریف کی وطن واپسی کا نگران حکومت سے کوئی تعلق نہیں نہ ہم نے اس کا فیصلہ کرنا ہے ۔ حالیہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے سدباب کے لیے بہت سارے فیصلے ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں مزید بھی فیصلے ہوں گے ۔ دورہ چین کے حوالے سے مرتضی سولنگی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کسی موسم کے محتاج نہیں ہیں سدابہار ہیں اور ان کا مستقبل بہت شاندار ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کتاب ” ہم نے جو بھلا دیا ” میں تاریخ کے حوالے سے حقیقی تصویر کشی کی گئی ہے میں بہت کچھ آج اس تقریب میں کہہ سکتا ہوں مگر 17 اگست 2023 ء سے ہمارے پاؤں میں زنجیریں اور بیڑیوں میں اضافہ ہوا ہے اور بہت سارے معاملات پر کھل کر بات نہیں کر سکتا اس کا کوئی اور معنی لے لیا جاتا ہے اور اسے پالیسی بیان کے طور پر لیا جاتا ہے جبکہ اس طرح کا اختیار ہمارے لیے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔ مرتضی سولنگی نے کہا کہ قومی اور سوشل میڈیا کا فرق ختم ہو کر رہ گیا ہے ذمہ دار اور غیر ذمہ دار صحافت کہاں سے شروع ہوتی ہے کہاں ختم ہوتی ہے تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور میرے لیے محفوظ راستہ یہی ہے کہ اس کتاب اور اس کے مواد متعلق بات کرلوں ۔ مرتضی سولنگی نے کہا کہ ایسے ماحول کا سامنا ہے کہ مختلف نظریات کے لوگوں میں بات چیت مذاکرات مشکل ہو گیا ہے ہاتھ ملانا تو دور کی بات ہے گالم گلوچ ہوتی ہے ۔ ہم نے اس راستے سے نکلنا ہے ۔ ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں اور انتخابی ماحول بہتر بنا سکتے ہیں ۔ کتاب کی تقریب رونمائی پر ڈاکٹر فاروق عادل کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ کتاب میں ملکی تاریخ سے متعلق پہلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے،جو قومیں تاریخ سے نہیں سیکھتیں وہ نقصان اٹھاتی ہیں، ذمہ دارانہ صحافت کا تعین ضروری ہے، ہم الیکشن کے مرحلے میں جا رہے ہیں،ملک کو ہر شعبے میں آگے لے جانے کی ضرورت ہے، ایسی تقاریب ملک کے مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوتی ہیں، ملک کو تباہی نہیں ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔


