بلوچستان وسائل پر قبضے، لوگوں کو غیر آئینی اغوا جیسی سنگین صورتحال کا شکار ہے، بی این پی

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام شہدائے عالمو کے31 ویں برسی کی حوالے سے تعزیتی ریفرنس منو جان روڑ ہدہ میں پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری سابق ایم پی اے میر اختر حسین لانگو کی رہائش پر منعقد ہوا جس کی صدارت صدارت شہدا کی تصویر سے کرائی گئی جس کے مہمان خاص پارٹی کے مرکزی فنانس سیکریٹری سابق ایم پی اے میر اختر حسین لانگو تھے اعزازی مہمان بی این پی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری اور چیئرمین جاوید بلوچ تھے تعزیتی ریفرنس سے پارٹی کے مرکزی فنانس سیکریٹری میر اختر حسین لانگو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری چیئرمین جاوید بلوچ ضلعی جنرل سیکریٹری میر جمال لانگو ڈپٹی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ضلعی انسانی حقوق سیکریڑی پرنس رزاق بلوچ حاجی ابراہیم پرکانی حاجی نزیر احمد لانگو رضا جان شاہی زئی جمعہ خان نیچاری حمید بادینی ٹکری محمد یوسف رند حاصل خان بنگلزئی زعفران مینگل سکندر مینگل اور میر وائس مینگل نے خطاب کرتے ہوئے شہدا عالموکی جدوجہد قربانیوں کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی قربانی ہمیں اتحاد یکجہتی اوردنیاکےبدلتے ہوئے سیاسی معاشی چیلنجزسے قومی اقدارکی دفاع کاتقاضا کرتی ہے کہ جدیددنیامیں رونما تبدیلیوں حالات وواقعات کےپیش نظردنیاتیسری عالمی تصادم کےدھانے پرکھڑی ہے جبکہ بلوچستان میں امن وآمان وقت گزار نگران سرکار کی بے سمت طرزعمل قابل تشویش ہے شہیدوں کی داستان حیات ہماری بقا وقومی سلامتی کےلئے گراں قدرہے غیریقینی صورتحال سے عوام بنیادی حقوق پرجاری قدغن کی غیرجمہوری ہتکھنڈوں کا شکارہے سترسالوں سےنامکمل آئینی بنیادی انسانی حق وانصاف کے متلاشی بلوچستان کے وسائل اورلاپتہ یاغیرآئینی اغوا نماجیسے سنگین صورتحال کاشکارہے نئے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریکوڈک معائدہ پرازخود غلط فیصلہ کاتاثربلوچستان کے ساتھ انتظامی سیاسی عدالتی ناانصافیوں کااعتراف ہے لیکن بلوچستان میں جمہوری سیاسی عمل پرقدغن لگاکرغیرسیاسی قوتوں کویکجاکرکے سیاسی عمل سے وابستہ طبقہ کودہشت گردی جیسے غیرآئینی وغیرجمہوری عمل سےروکنے کی روش تاہنوز جاری ہے بی این پی نےافغان مہاجرین ودیگرغیرمقامی افرادچالیس لاکھ کی موجودگی اورساڑے پانچ ہزارسے زائدافرادکولاپتہ کرنے کےدعوے کوماننے سےقاصرتھےلیکن ان کی زبانی اعتراف حکومتی سنجیدگی کاتقاضہ کررہی ہے اگرلاپتہ افراد ملکی قوانین کےمنافی کسی عمل میں شریک رہے ہیں توانھیں کیوں اسی آئین کےتابع قوانین کے ماتحت عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کیاجارہاہےوطن سےمحبت قوم دوستی ہماری سیاسی جدوجہدکامحورہے جرائت مندانہ سیاسی وجمہوری حقوق پراصولی موقف کے پیش نظربی این پی کےخلاف مہم جوئی کی جارہی ہے پارٹی قائدسرداراخترجان مینگل کےخلاف ایک منظم منصوبہ بندی کےجرائم پیشہ عناصرکی تمام جرائم کوپس پشت رکھ بدنام زمانہ ڈیتھ سکواڈ سرغنہ کی زیراثر وڈھ میں دہشت گردی کومسلح جھتہ کےذریعےگزشتہ چارماہ سےقومی شاہراہ کواستعمال کرنے والے ٹرانسپورٹروں مقامی زرعی ودیگرزرائع روزگارسے وابستہ طبقہ تاجروں ومقامی لوگوں کےبےدریغ نشانہ بنارہاہے جسے انتظامیہ باہمی تصادم کہہ کومالی انسانی ضیا پرچم پوشی اختیارکرہاہےپھروڈھ سے دورضلع خضدارمیں رونماواقعات پر انتظامیہ کی سردمہری سوالیہ نشان ہے کہ بلوچستان کوکیوں اس طرح کریدکریدکرکیوں زخمی کیاجارہاہےشہدا ولاپتہ افراد جاری سیاسی معاشی استحصال قوموں کی بنادی حقوق پرقدغن لگانااب مزید شایداپنی گرفت کوبرقرارنہ رکھ سکےگاکیونکہ عالمی وعلاقائی تبدیلیوں جدیدصدی کی جدیدتصورات علم سائنس عقل دانش سیاست وقومی وراثت پر دہشت گردی طاقت مصنوعی پیداکردہ عوامل وپس پردہ قوتوں کے ذریعےتسلط وظلم کےبطن سےپیداکردہ توسیع پسندانہ سوچ مسلط نہی کیاجاسکتاہے قوموں کے حقوق وعوام اظہاررائے کااحترام اورانسانی جمہوری سیاسی متعین کردہ طرزحکمرانی پرعملداری موجودہ حالات کی ضرورت ہےشہدا کی فکرونظریہ کی حفاظت اوران کی قربانی ومقصدحیات بی این پی کانصب العین ہےجس پرکار بندرہ کر بی این پی سرداراخترجان مینگل کی قیادت میں عوامی طاقت وحمایت سے بھرپوردفاع کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں