وڈھ تنازعہ، فریقین کو 4 دن کی مہلت، حکومت نے کارروائی کا عندیہ دیدیا
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وڈھ میں فریقین 4 دن میں 23 جون کی پوزیشن پر جائیں، بصورت دیگر سیکورٹی ادارے دونوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرینگے، وزیر اعظم اور آرمی کا ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہدایت۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی میں اجلاس میں طے پایا کہ وڈھ فریقین چار دن کے اندر 23 جون کی پوزیشن پر واپس چلے جائیں، بصورتِ دیگر سکیورٹی ادارے دونوں کیخلاف کارروائی کریں گے۔ نگراں صوبائی وزیر داخلہ کیپٹن(ر)میر زبیر احمد جمالی نے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی میں وڈھ کی وڈھ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں فریقین کو 4 روز کی مہلت دیتے ہوئے 18 جون 2023کی پوزیشن پر واپس جانے کو کہا ہے اگر وہ چلے گئے تو فورسز اور ثالثین کام کریں گے تاکہ علاقہ اور روڈ کو آمدو رفت کے لئے محفوظ بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دینے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر نگران صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی، صوبائی وزیر زراعت آصف الرحمن دمڑبھی موجود تھے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے 14ویں اجلاس میں وڈھ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں صورتحال گزشتہ کئی ماہ سے کشیدہ ہے جس سے قومی شاہراہ اور مقامی لوگوں کا کاروبار متاثر ہے اور لوگوں کا نقصان ہورہا ہے وڈھ میں دکانیں بند ہیں اور مسافروں سمیت راہ گیر بھی نشانہ بن رہے ہیں اس لئے ایپکس کمیٹی میں فوج کے سربراہ ، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے وڈھ مسئلے میں دونوں فریقین کو چار دن کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس دوران فریقین 4دن میں 18 جون 2023کی پوزیشن پر واپس چلے جائیں اس حوالے سے فورسز اور ثالثین اپنا کردار ادا کریں گے۔


