مستونگ پولیس کا مسافروں سے ہتک آمیز سلوک بند کیا جائے، ٹرانسپورٹرز
کوئٹہ(یو این اے )آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے جاری کردہ بیان میں مستونگ پولیس کی جانب سے مسافر کوچوں سے بھاری مقدار میں چھالیہ اور دیگر اشیا برامد کرنے کے دعووں کو مسترد کرتے ھوئے اس عمل کو سستی شہرت حاصل کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے۔ مستونگ پولیس نے مزکورہ کاروائی کے نام پر ان کوچز میں سواریوں کی بد ترین تذلیل کی مسافروں ،خواتین اور بچوں کو ساری سڑک پر بٹھایا گیا۔ٹرانسپورٹرز رہنماں کیساتھ طوفانی بدتمیزی کی گئی۔انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔انھوں نے کہا۔بیان میں کہا گیا۔امن وامان کے حوالے سے تو مستونگ پولیس کی کارکردگی صفر ہے۔ان کی نااہلی کی وجہ سے مستونگ کے ہر گھر میں شہیدوں کا ماتم ہے۔انھوں نے کہا۔کہ ٹرانسپورٹرز پہلے بھی اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ کہ مسافر کوچوں میں سوار ہونے والوں اور ان کی اشیا کی تلاشی ممکن نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ ٹرانسپورٹروں یا ان کے ڈرائیورز کنڈیکٹرز وغیرہ کا کام ہے۔ مسافروں کے سامان میں کیا ہوتا ہے اس کا علم ڈرائیورز کو نہیں ہوتا۔ لہذا مسافروں کے سامان میں موجود تھوڑے مقدار کے اشیا کو اسمبلنگ قرار دینا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیاہے۔ کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر پولیس نے ایک عرصہ سے کوچز مالکان اور ڈرائیوروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایک عرصہ سے قلات روٹ پر یہ دھندا عروج پر ہے۔ کہ کوچز کو گھنٹوں گھنٹوں کھڑا کر کے ان سے لاکھوں روپے بھتہ طلب کیا جاتا ہے۔ کوچز کا کوئی غیر قانونی کاروبار نہیں ہے۔ وہ کہاں سے اور کس لیے پولیس کو لاکھوں روپیہ دیں۔ مذکورہ دعوی یا الزام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ کہ کوچز کو بدنام کیا جائے۔ بیان کے مطابق جو اشیا برامد کی گئی ہیں۔ اس میں سے آدھی تو غائب کر دی گئی ہیں۔ باقی شو کیے گئے اشیا کی مالیت چند لاکھ روپے ہو سکتی ہے۔ جبکہ دعوی ڈیڑھ کروڑ سے زائد کا کیا گیا ہے۔اور چیکنگ کے نام پر مسافروں کو جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے گھنٹوں روڑ پر بٹھایا گیا۔جو سراسر غلط ہے۔ بیان میں گورنر وزیراعلی بلوچستان اور ائی جی پولیس اور دیگر ارباب اختیار سے پولیس کی ظلم و زیادتیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


