بی این پی کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں، بلوچ وطن میں ڈیتھ اسکواڈز کی خاتمے کیلئے جدوجہد ناگزیر ہے، بی ایس او

کوئٹہ (پ ر)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ حمایتی بیان میں کہا کہ بی این پی کی جانب سے 22 اکتوبر کو ہونے والے لانگ مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کارکنوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔ان کا کہنا تھا کہ عرصہ دراز سے جمہوری، مزاحمتی و عوامی آوازوں کو دبانے، سیاسی کارکنوں کی پروفائلنگ، جبری گمشدگی، ٹارگٹ کلنگ کروانے کے لیے بلوچستان کے طول عرض میں ڈرگ ڈیلرز، جرائم پیشہ افراد پر مشتمل جتھوں کو ریاستی سرپرستی میں کھلی چھوٹ دے کر انہیں "لائسنز ٹو کِل” دیا گیا ہے۔ ڈی جی خان تا مکران بلوچ وطن کے کونے کونے میں قتل و غارت، بھتہ خوری، اغوا کاری کا بازار گرم کئے رکھا گیا۔ تاکہ مقامی سطح پر ریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والے آوازوں کو دبایا جاسکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سردار اختر مینگل اس وقت بلوچ قوم کی توانا آواز ہیں جن کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کے لئے گزشتہ کچھ عرصے سے وڈھ اور ملحقہ علاقوں میں بدنام زمانہ ڈیتھ سکواڈ کے سربراہ کو ایک بار پھر سرگرم کیا گیا ہے۔گزشتہ تین ماہ سے وڈھ اور گردونواح میں تعلیمی ادارے اور کاروبار بند ہے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں لیکن ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے عوام کے مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں ڈیرہ غازی خان میں پاکستانی حکومت نے مہلک ہتھیاروں کا ٹیسٹ کیا اور اس ناکام تجربات کے نتیجے میں ایک میزائل ڈیرہ بگٹی میں جا گرا۔چاغی سے لے کر ڈیرہ غازی خان تک بلوچ وطن ریاست کے لئے ایک تجربہ گاہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ بی ایس او مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں مہلک ہتھیاروں کا تجربہ بند کیا جائے۔آخر میں ان کا کہنا تھا کہ وڈھ تا شال تمام زونز کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں لانگ مارچ کا استقبال کرتے ہوئے مارچ میں شرکت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں