چیکنگ کے نام پر عوام کی تذلیل، لک پاس ٹنل کی بندش معمول بن گیا، مسافروں کو پریشانی

مستونگ (انتخاب نیوز) لکپاس ٹنل پر روزانہ چیکنگ کے نام پر عوام رل گئے، اتوارشام بھی 7 بجے سے ہی لکپاس ٹنل مکمل طور پر بند، لکپاس ٹنل پر ٹریفک جام روزانہ کا معمول بن چکا ہے، کوئی نوٹس لینے والا نہیں، عوامی حلقوں کا وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان ڈومکی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، وزیر داخلہ ڈپٹی کمشنر مستونگ، عبدالرزاق ساسولی اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ ۔ لکپاس ٹنل کے مقام پر شام کو کوچز کی چیکنگ کے باعث شام سے ہی ٹریفک روزانہ کئی کئی گھنٹے جام رہتا ہے ہزاروں گاڑیاں پھنس جانے سے ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانا بھی ناممکن ہوچکا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضروری چیکنگ کے لیے لکپاس ٹنل کے بجائے کسی کھلے میدان کا انتخاب کیا جائے کیونکہ اس جگہ روڈ اور ٹنل تنگ ہونے سے بڑے بڑے ٹیلرز، بوزرز اور دس وئیلر ٹرکوں کے آنے اور دوسری جانب کوچز کی لمبی قطار کے اور چھوٹی بڑی گاڑیوں کو ایمرجنسی میں جلد بازی سے حادثات رونما ہو رہے ہیں جسکی واضع مثال گزشتہ شب لکپاس ٹنل پر پھنس جانے کے باعث جلدی سے نکلنے کی کوشش میں کاریزنوتھ کے ایک نوجوان کی روڈ حادثے میں شہادت اور فیملی ممبرز زخمی ہوئے ہیں اسی طرح گھنٹوں تک لکپاس ٹنل پر پھنس جانے کی وجہ سے کئی گاڑیاں وہاں سے نکلتے ہی دور دراز علاقوں میں پہنچنے کے لئے تیز رفتاری اختیار کرتے ہیں جس سے کئی حادثات کا احتمال رہتا ہے عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان، وزیر داخلہ ڈپٹی کمشنر مستونگ سے فوری نوٹس لینے اور چیکنگ کے لیے متبادل جگہ کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں