چمن میں آل پارٹیز اور تاجروں کا دھرنا، بارڈر پر پاسپورٹ سسٹم کے نفاذ کو مسترد کردیا
چمن (آن لائن) دھرنے میں سینکڑوں افراد کی شرکت، دھرنے سے سے آل پارٹیز تاجر لغڑی اتحاد کے رہنما?ں نے خطاب میں کہاکہ پاک افغان بارڈر پر پاسپورٹ سسٹم کسی صورت منظور ،نہیںپاک افغان بارڈر سے 40 ہزار افراد کا روزگار وابستہ ہیں پاسپورٹ نظام نافذ کرنے سے ان افراد کے گھروں کے چولہے بند ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ غریب طبقہ ہے جن کے پاس پاسپورٹ کیلئے دستاویزات تک نہیں بلکہ اگر ہے بھی تو پاسپورٹ کیلئے فیس کیلئے رقم نہیں یہ لوگ پاک افغان بارڈر پر صبح روزگار کما کر شام کو اپنے بچوں کیلئے روزگار لے جاتے ہیں، پاسپورٹ سسٹم نافذ کرنے سے ان افراد کو بے روزگاری کی طرف دھکیلنا اس علاقے کے غریب عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے پاک افغان بارڈر کو پرانے طرز عمل پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا پاسپورٹ نظام سے چمن اور بولدک کے عوام مشکلات کا سامنا ہو گا دھرنا مظاہرین نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا دنیا کے ہر بارڈر پر 20 کلو سامان لانے اور لے جانے کی اجازت دی جاتی ہے مگر پاک افغان بارڈر پر یہاں کے غریب عوام کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ظلم کے مترادف ہے انہوں نے پاک افغان بارڈر پر چمن عوام کیلئے آنے جانے میں آسانی پیدا کرنے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ دھرنے میں شریک عوام کی تعداد کو دیکھ کر حکومت کو اندازہ کر لینا چاہیے کہ ان غریب عوام کا پاک افغان بارڈر کے علاوہ روزگار کا اور کوئی ذریعہ نہیں پاک افغان بارڈر پر پاسپورٹ سسٹم نافذ کرنے سے یہاں کے غریب نوجوان بے روزگار ہو جائیں گے جس سے امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہو سکتی ہے جو لوگ بے روزگار ہو گئے ان کے دماغ کسی طرف بھی مائل ہو سکتا ہے جس پر ہماری حکومت کو غور کرنا چاہیے پاسپورٹ سسٹم نافذ کرنے کے بجائے پاک افغان بارڈر پر جو نظام پہلے سے چلتا آ رہا ہے اسی نظام کو دوبارہ سے بحال کیا جائے۔


