کسٹم اور ایف سی کی جانب سے دکانوں پر چھاپے قابل مذمت ہیں، انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی) انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر رحیم آغا، جنرل سیکرٹری ولی افغان ترین، حاجی نصرالدین کاکڑ، حاجی فاروق شاھوانی، میر محمد رحیم بنگلزئی، حاجی یعقوب شاہ کاکڑ، حاجی اسلم ترین، سید حیدر آغا، طاہر خان جدون، حاجی ظہور کاکڑ، امردین آغا، اسد خان ترین، شفیع آغا، عمر خان ترین، آصف سمالانی، عبد الہادی نورزئی، عبدالباقی اچکزئی، سردار سجاد شاھوانی، میر زبیر احمد، ملک محمد حسین شاھوانی اور دیگر عہدیداروں نے میٹروپولیٹن کے جانب سے تولا رام روڈ سٹی تھانہ کے پیچھے واقع ڈرائی فروٹ کے کھوکوں کو سیل اور نیو اڈہ میں دکانداروں کے گوداموں پر چھاپے مارنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے گزشتہ ہفتے نگران وزیر داخلہ اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ سے ملاقاتیں کی تھیں اور یہ طے ہوا تھا کہ یکم نومبر تک کسی کھوکھے کو سیل نہیں کیا جائے گا یکم نومبر کے فوری بعد مل بیٹھ کر تمام مسائل کو گفت و شنید سے حل کیا جائے گا لیکن میٹروپولیٹن کے عملے نے جلد بازی کرتے ہوئے ایک بار پھر غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے ڈرائی فروٹ کی دکانیں سیل کردیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک نام نہاد تاجر تنظیم کے آلہ کار اور میٹروپولیٹن کے دو اہلکاروں کی ملی بھگت سے اس طرح کے ڈرامے کیے جارہے ہیں اور دکانداروں سے فی دکان ایک لاکھ تیس ہزار روپے رشوت دینے کہا جارہا ہے اس سلسلے میں ہم نے نگراں وزیر داخلہ کو آگاہ بھی کیا اس طرح سرعام رشوت کا تقاضا کرنا ریاستی اداروں کے کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اگر ریاستی اداروں کے ذمہ داران نے اس کا نوٹس نہ لیا تو ہم اپنا راستہ اختیار کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ گزشتہ روز نیو اڈہ میں کسٹم اور ایف سی کی جانب سے دکانداروں کے گوداموں پر چھاپے مارنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسٹم اور ایف سی کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شہر کے وسط میں چھاپے ماریں اور تاجروں کا سامان ضبط کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں