لٹل پیرس کہلانے والا کوئٹہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل، گندا پانی سڑکوں پر بہنے لگا
کوئٹہ (آن لائن) ماضی کا لٹل پیرس صوبائی دارالحکومت کوئٹہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔ آلودگی، شاہراہوں کی فٹ پاتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار مین ہول کھلے اور نالیوں کا گندا پانی سڑکوں پر بہنے، صفائی ستھرائی نہ ہونے سے شہر کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے۔ کوئٹہ کی مصروف شاہراہوں پر لوگوں کا گزرنا محال ہوگیا ہے۔ جس سے لوگوں کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر کی خوبصورتی فٹ پاتھوں کی تعمیر، مین ہولوں کے لئے سالانہ کروڑوں روپے کے ٹینڈر ہوتے ہیں لیکن زمین پر کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ انسکمب روڈ، جناح روڈ، پشین اسٹاپ، زرغون روڈ سمیت دیگر علاقوں میں نالیوں کا پانی سڑکوں پر بہتا اور کھڑا رہتا ہے جس سے لوگوں کو گزرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے گندے پانی پڑنے سے لوگوں کے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔ سول ہسپتال کے سامنے انسکمب اور روڈ کی نالیوں کے ڈکنے نہ ہونے اور فٹ پاتھ کے ٹوٹنے سے پانی ہمیشہ سڑک پر کھڑا رہتا ہے کھڑے پانی میں کچرے اور مٹی پڑنے سے تعفن پھیل رہا ہے سول ہسپتال آنے جانے والے مریضوں اور وہاں سے گزرنے والے لوگ سانس کی بیماریوں سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔لوگ ہسپتال علاج کی غرض سے جاتے ہیں لیکن حکومتی غفلت اور عدم توجہی کی وجہ سے مزید بیمار ہورہے ہیں اور اذیت کا شکار ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کے وسط اور مصروف شاہراہوں کی یہ حال ہے تو باقی علاقوں کی صفائی ستھرائی سیوریج کا نظام اس بدتر ہے۔سالانہ صفائی ستھرائی اور کوئٹہ کی خوبصورتی، شاہراہوں اور فٹ پاتھوں کی تعمیر و مرمت کے لئے کروڑوں روپے ریلیز ہوتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔عدم توجہی اور ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کی وجہ سے شہر کھنڈر کا منظر پیش کررہا ہے۔ کوئی بھی ادارہ اپنی ذمہ داری نبھانے میں مخلص نظر نہیں آرہا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ شہر کی صفائی ستھرائی، سیوریج کی بحالی، مین ہولوں پر ڈکنے لگانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی کوئی حادثہ پیش نہ آئے اور شہر میں چلنے پھرنے اور سفر کرنے والے لوگوں کو سہولت میسر آسکیں۔


