غزہ پر اسرائیلی حملے 23 ویں روز بھی جاری، مزید سینکڑوں فلسطینی شہید
غزہ(صباح نیوز)غزہ پر اسرائیلی حملے 23 ویں روز بھی جاری رہے،اسرائیل کی وحشیانہ کارروئیوں میں مزید سینکڑوںفلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں،غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل-حماس تنازع کے آغاز کے بعد سے غزہ میں 8 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے،حماس نے جوہری تنصیبات کی وجہ سے اسرائیل کے اہم ترین شہر دیمونا کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے دیمونا میں راکٹ داغے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ راکٹ حملے کے بعد ایریز اور نیتیو ہاسارا میں سائرن بجادیئے گئے ہیں۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر(ایکس)پر عبرانی ذرائع سے حاصل ہونے والی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پہاڑوں کے درمیان واقعے جوہری تنصیبات کے قریب دھوا اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق غزہ میں زمینی کارروائی میں شریک ایک فوجی ٹرک کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب لبنانی تنظیم حزب اللہ کے بھی اسرائیلی فوج پر حملے میں فوجی گاڑی تباہ ہوگئی جبکہ اسرائیل کے اندر بھی ایک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کی گئی ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہریوں کو ایک بار پھر جنوب میں منتقل ہونے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوب میں غزہ کے شہری پانی، خوراک، ادویات حاصل کر سکیں گے۔اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا اور مصر کی غزہ کیلئے انسانی امداد کی کوششوں کو بڑھایا جائے گا، اسرائیل کی لڑائی غزہ کے لوگوں سے نہیں، حماس کے ساتھ ہے۔ علاوہ ازیں حماس اسرائیل میں قید 6 ہزار فلسطینیوں کی رہائی کے عوض اسرائیلی قیدیوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہوگئی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں حماس سے لڑائی طویل اور مشکل ہو گی۔اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے 7اکتوبر کو حماس کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے کہا کہ غزہ پٹی میں جنگ طویل اور مشکل ہوگی اور ہم اس کے لیے تیار ہیں، جنگ کے بعد ہمیں مشکل سوالات کا جواب دینا ہوگا۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ مغویوں کی بازیابی فوج کے اہداف کا ایک لازم حصہ ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومت قیدیوں کی بخیریت رہائی کی ذمے دار ہے۔اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے ڈیل پر زور دیا ہے۔ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کی زمینی فورسز برائی کے گڑھ یعنی غزہ میں داخل ہو گئے ہیں اور کمانڈرز غزہ پٹی میں ہر جگہ تعینات ہیں۔حماس اسرائیل میں قید 6 ہزار فلسطینیوں کی رہائی کے عوض اسرائیلی قیدیوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے ترجمان ابو عبیدہ نے غزہ کے شہریوں کو اپنے ساتھ کھڑے رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ شہری اس معاملے کو فیصلہ کن معرکی سمجھیں، فتح ہماری ہی ہو گی۔عالمی تنظیم ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے غزہ کے تنازعے کو فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ناقابل برداشت حد تک تکلیف دہ ہے۔غزہ میں اسرائیل کی شدید بمباری کے دوران انٹرنیٹ سروس منقطع ہونے کے تقریبا 2 روز بعد عالمی نیٹ ورک مانیٹر نیٹ بلاکس نے بتایا ہے کہ غزہ میں انٹرنیٹ سروس بحال ہو رہی ہے۔ کمپنی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ریئل ٹائم نیٹ ورک ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ غزہ میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بحال ہو رہی ہے۔ فلسطینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی سروس بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔


