بلوچستان ڈیری فارمرز نے کوئٹہ انتظامیہ کے جاری دودھ اور دہی کے نرخ مسترد کردیے

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے دودھ اور دہی کے جاری کردہ نئے نرخ نامے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا کیس پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے انتظامیہ زمینی حقائق کو پس پشت ڈال کر اپنی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آئے روز نرخنامہ جاری کرکے ہمیں بلیک میل کرکے اس صنعت کو تباہی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر اور کمشنر کوئٹہ ڈویژن محمد حمزہ شفقات صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ہمیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے نیا ریٹ فراہم کرکے انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے ڈیری فارمرز گزشتہ کئی سالوں سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عدم توجہی کی وجہ سے مشکلات سے دو چار ہیں۔ گزشتہ سال سیلاب کے باعث زرعی اور لائیو سٹاک کا شعبہ تباہ ہوگیا جس کی وجہ سے ہمیں مال مویشیوں کے لئے چارہ اور دیگر اجناس مہنگے داموں دوسرے صوبوں سے خرید کر لانی پڑتی ہے اور اس پر بھاری اخراجات آتے ہیں ہم نے انتظامیہ کو متعدد بار بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زمینی حقائق کے مطابق تجزیاتی کمیٹی کی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے دودھ اور دہی کا نیا ریٹ فراہم کیا جائے لیکن انتظامیہ اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری مشکلات کو دور کرنے کی بجائے اس صنعت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ 2 نومبر کو تھوک کا ریٹ 165 روپے فی لیٹر جبکہ پرچون میں 180 روپے فی لیٹر فروخت کرنے کا ریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ملک کے دیگر صوبوں اور بڑے شہروں میں 200 سے زائد قیمت پر فی لیٹر دودھ فروخت ہورہا ہے۔ جبکہ وہ زرعی صوبے ہیں اور بلوچستان میں یہ تمام اجناس اور چارہ دوسرے صوبوں سے لانا پڑتا ہے۔ انتظامی آفیسر ہماری باتوں کو نظر انداز کرکے اپنا فیصلہ مسلط کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں