ڈیرہ اللہ یار میں زرعی اجناس پر اضافی ٹیکس وصولی کیخلاف بیوپاری سراپا احتجاج، مرکزی شاہراہ بند کردی

ڈیرہ اللہ یار (این این آئی) ڈیرہ اللہ یار میں زرعی اجناس پر اضافی ٹیکس وصولی کے خلاف بیوپاری سراپا احتجاج ، تین اضلاع کے بیوپاریوں نے قومی شاہراہ پر ٹائر جلا کر مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی، بیوپاریوں کے احتجاج اور قومی شاہراہ کی بندش سے سندھ بلوچستان اور پنجاب کی ٹریفک ایک گھنٹے تک بند رہی اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، احتجاجی دھرنے کی جگہ بیوپاری اعجاز احمد مگسی ، دیدار علی مغیری اور محمد یعقوب کھوسہ و دیگر نے صحافیوں کو بتایا کہ دھان کی فصل تیار ہو کر منڈی میں آگئی ہے مگر مناسب قیمت نہ ملنے سے کاشتکاروں کو مالی نقصان کا سامنا ہے وہاں مارکیٹ کمیٹی نے زرعی اجناس پر اضافی ٹیکس لگا کر بیوپاریوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا، پہلے فی من پر تین روپے مارکیٹ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا اب دس گنا بڑھا کر فی من پر 22 روپے وصول کیا جا رہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے، انکا کہنا تھا کہ زرعی اجناس پر اضافی ٹیکس وصولی کسی صورت قبول نہیں، اضافی ٹیکس کاشتکاروں اور بیوپاریوں پر بھاری بوجھ ہے، مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اضافی ٹیکس ختم کیے جائیں بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائیگا، پولیس تھانہ ڈیرہ اللہ یار کے ایس ایچ او عبدالروف جمالی نے دھرنے کی جگہ پہنچ کر بیوپاریوں اور مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ کے مابین مزاکرات کروا کر احتجاجی دھرنا ختم کرا دیا جسکے بعد ٹریفک بحال کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں