غزہ لڑائی میں زندہ بچنے والوں کی زندگی انتہائی مشکل ہوگئی، خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا

غزہ(صباح نیوز) برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق غزہ کی لڑائی میںوہ لوگ، جو اب تک زندہ بچنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، ان کے لیے غزہ میں زندگی انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہاں خوراک کی کمی، پانی کی شدید قلت اور صحت کو بہت سے خطرات لاحق ہیں۔اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے صحت نے اکتوبر کے وسط میں کہا تھا کہ غزہ میں خاندان اور بچے کھانا پکانے، پینے اور حفظان صحت کے لیے فی شخص صرف تین لیٹر پانی پر انحصار کر رہے ہیں جبکہ کسی بھی شخص کے لیے یومیہ کم از کم 15 لیٹر فی شخص ہے۔حال ہی میں رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں بہت کم پانی کی سپلائی مہیا کی گئی اور اس کے بعد سے پانی کی فراہمی کے زیادہ تر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔پانچ نومبر کو اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے نے رپورٹ کیا کہ غزہ میں پانی کی کھپت میں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے اوسطا 92 فیصد کمی آئی اور 65 سیوریج پمپنگ سٹیشنوں میں سے زیادہ تر کام نہیں کر رہے۔31 اکتوبر کو ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی، زیادہ بھیڑ اور پانی اور صفائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان سے غزہ میں صحت عامہ کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔UNOCHA کا کہنا ہے کہ اس نے فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں