فوجی دباؤ قائم رکھ کر قیدیوں کے متعلق بات چیت جاری ہے، نیتن یاھو
بیت المقدس(صباح نیوز) اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی شروع کرنے کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن فوجی دباؤ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ اب ہم حماس کے ساتھ یرغمالیوں کو رہا کرنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن ہم بمباری کے دباؤ میں بات کر رہے ہیں۔نیتن یاھو نے اپنی لیکود پارٹی کے ارکان کو یہ بھی بتایا کہ جنگی کونسل فوجی فیصلوں کے حوالے سے لاپرواہی سے دور رہتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل جنوبی اور شمالی محاذوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنی لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء اور کنیسٹ ارکان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے وقت سیکورٹی فورسز پر تنقید نہ کریں۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی فوج نے خان یونس کے شمال میں زمینی کارروائی شروع کی۔ اس میں جنوبی شہر اور اس کے اطراف میں انخلا کے احکامات میں توسیع کی گئی تھی۔ پانچ علاقوں سے لوگوں کو نکل جانے کا کہا گیا۔جنوبی غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی میں تیزی نیتن یاھو کی جانب سے مذاکرات کے لیے قطر جانے والی موساد کی ٹیم کو واپس بلانے کے بعد سامنے آئی۔


