بے گناہ بلوچوں کو ماروائے آئین لاپتہ کرکے قتل کرنا روایات بن چکی، بی ایس او

تربت (نمائندہ انتخاب ) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلیدہ زون کا اجلاس منعقد، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال و آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلیدہ زون کا اجلاس شے عطاءاللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کے مہمان خاص بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے رکن کرم خان بلوچ تھے، اجلاس کی شروعات شہدائے بلوچستان کی یاد میں خاموشی سے کی گئی،اجلاس کی کاروائی شے حمل نے چلائی اجلاس میں مرکزی سرکلر سمیت مختلف ایجنڈے زیر بحث آئے،اجلاس میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اس وقت شدید مسائل کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں انسانی حقوق کا بحران ہیں، بے گناہ بلوچ نوجوانوں کو ماروائے آئین و قانون لاپتہ کرکے قتل عام کرنا اک روایات بن چکی ہیں بلوچ قوم کو اس وقت انسان ہی نہیں سمجھا جاتا اسی لیے ان کے انسانی حقوق پامال کیے جاتے ہیں، پر امن سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے والے کارکنان کو مختلف طریقوں سے حراساں کیا جاتا ہے بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنے کیلئے اجتماعی سزا¶ں سے پورے خاندان کو اذیت و قرب میں مبتلا کرتے ہیں، ان حالات و صورتحال کے باوجود بی ایس او قومی تنظیم کی حیثیت سے بلوچ قوم کی نمائندگی کرنے میں صف اول کا کردار ادا کر رہی ہیں بلوچستان کے جس بھی کونے میں ظلم و زیادتیوں کے خلاف تحریک چلانا ہو یا مظلوم بلوچ اپنے اوپر جاری استحصالی کے خلاف سیاسی جدوجہد کرتے ہیں تو بی ایس او ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہ کر ان کو قوت فراہم کرتی ہیں، اجلاس کے آخری ایجنڈے آئندہ لائحہ عمل میں بلیدہ زون کا آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے مطابق شے عطاءاللہ بلوچ آرگنائزر، شے حمل بلوچ ڈپٹی آرگنائزر، جبکہ علی جان بلوچ، شے مہران بلوچ،سہیل بلوچ کمیٹی کے ممبران منتخب ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں