پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد (صباح نیوز) دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاززہرا بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ، بھارت دنیا بھر میں جاسوسی اوردہشت گردی میں ملوث ہے ،بھارت عالمی برادری کی توجہ جموں وکشمیر سے نہیں ہٹا سکتا۔ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ واربریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تیسرے ملک میں ٹی ٹی پی سے بات چیت نہیں ہورہی ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، اس طرح کے کوئی مذاکرات کہیں نہیں ہورہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان نے ڈی آئی خان حملے کے ثبوت افغان حکام کے حوالے کئے ہیں، افغانستان نے ڈی آئی خان حملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے، افغانستان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرکے ملوث کرداروں کو ہمارے حوالے کرے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت دنیا بھر میں جاسوسی اوردہشت گردی میں ملوث ہے، بھارتی جاسوسی کارروائیاں اب پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پھیل گئی۔ممتاززہرابلوچ نے کہاکہ جنرل عاصم منیرکا بطورآرمی چیف امریکہ کا پہلا دورہ ہے،یہ دو ممالک کے درمیان معمول کے دوستانہ تعلقات پرمبنی دورہ ہے، آرمی چیف سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے لئے یکم نومبر سے ون ڈاکو منٹ پالیسی متعارف کروائی ہے،وفاقی کابینہ نے سنگل ڈاکومنٹ کی پالیسی کی منظوری دی ہے،اب افغان شہریوں کو ویزے کے بغیر پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی غیرقانون اقدامات پرعالمی برادری کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے، چین اور ترکیہ نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نظرانداز کیا، پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون جاری رکھے گا، بھارت عالمی برادری کی توجہ جموں وکشمیر سے نہیں ہٹا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں