کسی شخص کیخلاف ایک لفظ بھی نہیں سنیں گے جو ہمارے سامنے پارٹی نہ ہو، سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل (ر)فیض حمید اوردودیگر افسران کو درخواستوں میں فریق بنائیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر جن افراد پر الزام لگایا گیا ہے ان کو درخواستوں میں پارٹی نہیں بنایا جاتا توپھر دوران سماعت ان افراد کے خلا ف ایک لفظ بھی نہیں سنیں گے۔ایک لفظ بھی کسی شخص کے خلاف نہیں سنیں گے جو ہمارے سامنے پارٹی نہ ہو، لوگوں کو پہلے پارٹی بنائیں پھر بات کریں۔ میرا ہمیشہ سے مئوقف رہا ہے کہ اگر کسی پر الزام لگائیں توان کو پارٹی توبنائیں، ہم مفروضوں پر توکیس نہیں چلائیں گے۔ اگر کسی پر کوئی بھی الزام لگتا ہے یہاں صحافی بھی بیٹھے ہیں ہم انہیں منع تونہیں کرسکتے، کل اخبار میں نام آجائے گا۔ جس شخص پر الزام لگارہے ہیں اس کو پارٹی کیوںنہیں بنایااس کے بغیر ہم آپ کو نہیں سنیں گے۔ ہم اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اداروں میں اچھے اوربرے لوگ ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل خود جج رہے ہیں انہوں نے کسی ایسے شخص کے فیصلہ نہیں کیا ہو گا جوان کے سامنے پارٹی نہ ہو۔جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ ہر پیراگراف میں ایک شخص کے خلاف الزام لگارہے ہیں، اُس شخص کے حوالہ سے کس طرح فیصلہ کرسکتے ہیں جو ہمارے سامنے نہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اورکراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر تین درخواستوں پر سماعت کی۔ شوکت صدیقی کی جانب سے سینئر وکیل حامد خان پیش ہوئے جبکہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین احمد تاہم بیماری کے باعث کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید احمد رضوی پیش نہ ہوسکے۔ جبکہ وفاقی کی نمائدندگی ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید اقبال وینس نے کی۔درخواستوں میں وفاق پاکستان کو بوساطت سیکرٹری قانون وانصاف کے توسط سے فریق بنایا گیا ہے۔ کیس کی کارروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر براہ راست دکھائی گئی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ وفاق پاکستان کو درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے اعتراض ہے۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست پر گزشتہ سماعت کب ہوئی تھی جس پر وکیل حامد خان نے بتایا کہ آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس طارق مسعود اور جسٹس اعجازالاحسن نے بنچ میں شمولیت سے انکار کیا، میں نے کسی کو بنچ سے نہیں ہٹایا۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے اس کیس میں بنیچ کی تبدیلی پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا، پہلے اس بینچ میں کون کون سے ججز تھے؟وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس سنا، بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل ، اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہم اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہتے، باقی ججز ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، میں نے بنچ سے کسی کو نہیں ہٹایا، بینچوں کی تشکیل اتفاق رائے یا جمہوری انداز میں ہو رہی ہے، موبائل ہاتھ میں اٹھا کر ہر کوئی صحافی نہیں بن جاتا، صحافی کا بڑا رتبہ ہے، موبائل اٹھا کر صحافی بننے والوں کو سوچنا چاہیے پریکٹس اینڈ پروسیجر پر فیصلہ آچکا ہے،تھوڑا جمہوریت کا زمانہ آگیا ہے، ہم جمہوریت کی طرف گامزن ہیں اورسپریم کورٹ میں بھی جمہوریت ہے۔ چیف جسٹس نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بینچ میں موجود کسی رکن پر اعتراض تونہیں۔ اس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی رکن پر اعتراض نہیں۔وکیل حامد خان نے کہا کہ جمہوریت اس وقت مشکل میں ہے۔چیف جسٹس نے حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شوکت صدیقی راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے تقریر پوری پڑھنا چاہیں تو پوری پڑھ دیں یا چیدہ ، چیدہ چیزیں پڑھنا چاہیں تووہ پڑھ دیں۔ حامد خان نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر عدالت کو سنایا اور بتایا کہ ان کے سائل کو کہا گیا کہ اگر آپ نے ان کی خواہش کے مطابق میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنا دیا تو آپ کونومبر کی بجائے ستمبر میں چیف جسٹس اسلام آباد اہئی کورٹ بنا دیا جائے گا۔ جس پر چیف جسٹس نے حامد خان کو ٹوکتے ہوئے کہا اگر آپ کسی پر الزام لگا رہے ہیں تو اس کو آپ کو پارٹی بنانا چاہیے، اگر آپ کسی پر الزام لگا رہے ہیں تو اتنا تو ہونا چاہیے کہ ہم انہیں بھی سنیں، ہو سکتا ہے وہ آکر مان لے اور ہو سکتا ہے وہ آکر اپنا کوئی مقف پیش کرے، میرا اصول ہے کہ جس پر الزام لگا اس کو بھی سنو ہو سکتا ہے وہ الزامات کو تسلیم کر لے، اگر کسی شخص کو فریق نہیں بناتے تو اس شخص کا نام مت لیجیے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تباہی یہ ہے کہ ہم شخصیات کو برا نہیں کہتے اور ادارے کو برا کہتے ہیں، ادارے تو وہی رہتے ہیں، ادارے کو لوگ چلاتے ہیں، اداروں میں اچھے اور برے لوگ بھی ہوتے ہیں، کبھی کبھی عدالت میں کچھ بھی بول دیتے ہیں بعد میں فیصلہ لکھنے میں احتیاط کرتے ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا آپ کا الزام ایک شخص پر ہے یا ادارے پر؟ جس پر حامد خان نے کہا میں نے متفرق درخواست میں فیض حمید اور آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر کا گھر آنے کا ذکر کیا ہے۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جب آپ کا الزام ایک فرد پر ہے تو اسے فریق تو بنائیں۔حامد خان کا کہنا تھا کہ فیض حمید اورایک برگیڈیئر نے ان کے مئوکل سے ملاقات کی۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا دوشخصیات یا پورے ادارے پر الزام لگارہے ہیں، جس پر الزام لگائیں اس کو پارٹی توبنائیں، دوشخصیات کو پارٹی کیوں نہیں بنایا۔ چیف جسٹس کا کہناتھا کہ ادارے تونہیں بولتے کسی شخصیت کے ذریعے بولتے ہیں۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ میرامئوقف تھا کہ اوپن ٹرائل کریں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل میں کاروائی ختم ہوگئی ، جن شخصیات پرالزام لگایا ہے ان کو پارٹی کیوں نہیں بنایا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرا ہمیشہ سے مئوقف رہا ہے کہ اگر کسی پر الزام لگائیں توان کو پارٹی توبنائیں، ہم مفروضوں پر توکیس نہیں چلائیں گے۔ اگر کسی پر کوئی بھی الزام لگتا ہے یہاں صحافی بھی بیٹھے ہیں ہم انہیں منع تونہیں کرسکتے، کل اخبار میں نام آجائے گا۔ جس شخص پر الزام لگارہے ہیں اس کو پارٹی کیوںنہیں بنایااس کے بغیر ہم آپ کو نہیں سنیں گے۔اگرہم متعلقہ شخص کے خلاف فیصلہ کردیتے ہیں تو وہ پہلی بات یہی کہے گا کہ مجھے سنا نہیں گیا۔ اگر الزام لگانا چاہتے ہیں تو پھر طریقے سے چلیں اورانہیں پارتی بنائیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ کیا متعلقہ شخص نے کسی فورم پر کوئی جواب دیا ہے یا سپریم جوڈیشل کونسل نے انہیں کوئی نوٹس دیا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کا کہنا تھا کہ تین لوگوں کے نام جواب میں لکھے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ادارے برے نہیں نہیں ہوتے بلکہ لوگ برے ہوتے ہیں، وکیل الیکشن لڑتے ہیں تو وہ سپری کورٹ بار ایسوسی کے ادارے کو برانہیں کہیں گے بلکہ خود کو کہیں گے کہ میں بہترامیدوارہوں، ادارے کو برا نہیں کہہ سکتے، عدلیہ سے متعلق بات کریں گے توسارے جج آجائیں گے اسی طرح ہسپتال اورٹیچزآجائیں گے،اداروں کو برابھلا کہتے ہیں اورشخصیات کو برابھلا نہیں کہتے۔ جب لوگوں کا نام لیا ہے توکیوں ان کو پارٹی نہیں بنایا، ایسے نہیں ہوسکتا،جس پر الزامات لگائے ہیں اس کو پارٹی بنائیں۔ اگر اس بات پر گئے توپھر سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ درست ہے، پارٹی بنائے بغیر کیس نہیں چلے گا۔ ہم اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اداروں میں اچھے اوربرے لوگ ہوتے ہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی ختم ہو گئی اب یہ ہمارے سامنے معاملہ ہے یہاں توان کو پارٹی بنائیں،ان کا مئوقف توسنیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانی پل کے نیچے سے گزرگیا ہے۔ دوران سماعت وکیل صلاح الدین احمد کا کہنا تھا جن پر الزام ہے ان کو پارٹی بنایا جانا چاہیئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم مجبور نہیں کریں گے کہ کسی پر الزام لگائیں ، یہ پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کااصول ہے کہ جس پر الزام لگااس کو سننے کا موقع دیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر ان کیمرہ کاروائی کے خلاف ہوں، الزام لگے تو پھر اس کو اوپن ہونا چاہیئے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کتنے دن کاروائی چلی۔ اس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ ایک دن کاروائی چلی میں بھی موجود تھااورکوئی گواہ پیش نہیں ہوا۔ اگر سپریم جوڈیشل کونسل میں آپ سے زیادتی ہوئی ہے توآپ وہی کام الزمات لگاکران کو پارٹی نہ بنا کرکررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل خود جج رہے ہیں انہوں نے کسی ایسے شخص کے فیصلہ نہیں کیا ہو گا جوان کے سامنے پارٹی نہ ہو۔ تقریر کی اس میں کیا مس کنڈکٹ ہے یہ قانونی سوال ہے، ہم ان لوگوں کوشنوائی کا موقع تودیں جن پر الزام لگاہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ ہر پیراگراف میں ایک شخص کے خلاف الزام لگارہے ہیں، اُس شخص کے حوالہ سے کس طرح فیصلہ کرسکتے ہیں جو ہمارے سامنے نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کس کو ٹارگٹ بنایا ہے توپھر اس کو پارٹی بنائیں وگرنہ ان کے خلاف ایک لفظ نہ کہیں۔ چیف جسٹس نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی بھی ہچکچارہے ہیں۔ ایک لفظ بھی کسی شخص کے خلاف نہیں سنیں گے جو ہمارے سامنے پارٹی نہ ہو، لوگوں کو پہلے پارٹی بنائیں پھر بات کریں۔ اگر الزام لگائیں گے توپھر ہم متعلقہ شخص کو نوٹس دیں گے اورسنیں گے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ یہ بھی ہم دیکھیں گے کہ کیا رجسٹرارسپریم کورٹ کسی ہائی کورٹ کے خلاف کارروائی کے لئے نوٹ لکھ بھی سکتا ہے کہ نہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درخواست کو الزام واپس لے کر چلا لیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دوہفتے کہ عدالتی چھٹیاں کردی ہیں اورکل آخری ورکنگ ڈے ہے، ایک جج بیرون ملک جارہے ہیں وہ 15جنوری کے بعد واپس آئیں گے۔ حامد خان نے بتایا کہ شوکت عزیز صدیقی کے تین ریفرنس پرائیویٹ لوگوں کی جانب سے دائر کیئے گئے جبکہ چوتھا ریفرنس رجسٹرارسپریم کورٹ کے نوٹ پر لیا گیا جس پر کاروائی کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل نے عہدے سے ہٹایا۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ گھر پر خرچ کرنے کے حوالہ سے ایک ریفرنس سی ڈی اے ممبرانور گوپانگ نے دائر کیا، دوسرا ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس میںمختلف آبزرویشنز پر دینے پر سابق ایم این اے جمشید احمد خان دستی نے دائر کیا اورتیسراریفرنس کلثوم خالق ایڈووکیٹ نے دائر کیا۔حامد خان کا کہنا تھا کہ رجسٹرا سپریم کورٹ کے نوٹس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے 22جولائی 2018کونوٹس لیا گیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کیا تقریر میں دل کی آواز بھی شامل تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ کسی پر الزام لگا رہے ہیں تو اتنا تو ہونا چاہیے کہ ہم انہیں بھی سنیں، ہو سکتا ہے وہ آکر مان لے اور ہو سکتا ہے وہ آکر اپنا کوئی موقف پیش کرے، میرا اصول ہے کہ جس پر الزام لگا اس کو بھی سنو، ہو سکتا ہے وہ الزامات کو تسلیم کر لے، اگر کسی شخص کو فریق نہیں بناتے تو اس شخص کا نام مت لیجیے گا۔عدالت نے کیس کی سماعت آج صبح ساڑھے 10بجے تک شوکت عزیز صدیقی اوردیگر درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید اوردیگر دوافسران کا نام لکھ کر انہیں درخواستوں میں پارٹی بنائیں جس کے بعد مدعا علیہاں کو نوٹس جاری کرنے اورآئندہ سماعت کے حوالہ سے تاریخ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو خفیہ اداروں کے خلاف تقریر کرنے پرسابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔سابق جج شوکت عزیز صدیقی کو 11 اکتوبر 2018 کو عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔شوکت صدیقی نے 2018 سے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے، شوکت عزیز صدیقی کی آئینی درخواست پر آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی۔انہوں نے اپنی درخواست میں مقف اپنایا ہے کہ بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں