لورلائی میں 2018ءکے انتخابات کی طرح دھاندلی نہیں ہونے دیں گے، آل پارٹیز

کوئٹہ(یو این اے )آل سیاسی پارٹیز و آزاد امیدواران لورالائی کی جانب سے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر مولانا فیض اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لورالائی میں ایک مرتبہ پھر انتخابات میں ٹھپہ ماری کیلئے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے دوکارکنوں حبیب الرحمان مردانزئی اور حبیب الرحمان لونی کو اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسران تعینات کیا گیا ہے تاکہ ایک مرتبہ پھر 8فروری کو پی بی 5لورالائی اور این اے 258لورالائی پر اپنے امیدوار کو کامیاب کیا جاسکے صوبائی الیکشن کمشنر کی جانب سے تمام ثبوت فراہم کرنے کے بعد یقین دہانی کرائی ہے کہ دونوں افسران کو ہٹا کر ان کی جگہ غیر جانبدار ریٹرننگ آفسران کو تعینات کریں گے اگر تین دن کے اندر ہمارے مطالبہ پر عملدرآمد نہیں ہوا تو ہم لورالائی میں پہہ جام اور الیکشن کمیشن بلوچستان کے آفس کے سامنے دھرنا دیں گے اس موقع پر سردار سکندر حیات سردار اسفند یار کاکڑ سردار نصیب اللہ مولانا حیات اللہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے مولانا فیض اللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے آل پارٹیز کے پلیٹ فارم سے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس مرتبہ 2018کے انتخابات کے طرح دھاندلی نہیں ہونے دیں گے اس لیے ہم نے لورالائی میں شٹر ڈاون احتجاجی مظاہرے کیے ہم نے پہہ جام ہڑتال کی کال دی تھی لیکن صوبائی الیکشن کمشنر کی جانب سے یقین دہانی کے بعد ہم نے اپنا احتجاج تین دن کے لیے موخر کردیا ہے اگر پھر بھی ہمارے مطالبہ پر عمل نہیں ہوا تو ہم پہہ جام کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دیں گے مذکورہ اسسٹنٹ ریٹرننگ آفسران حبیب الرحمان مردانزئی اور حبیب الرحمان لونی باقاعدہ طور پر مسلم لیگ ن کے کارکن ہیں اس کے تمام ثبوت ہم نے صوبائی الیکشن کمشنر کو فراہم کردیے ہیں کیونکہ سابق صوبائی وزیر ایک مرتبہ پھر ٹھپہ ماری کا اور 2018کی طرز پر دھاندلی کا پلان بنا رہے ہیں جسے ہم کسی صورت کامیاب ہونے نہیں دیں گے اس حوالے سے ہم نے وفاقی الیکشن کمشنر اسلام آباد کو بھی درخواست جمع کرائی ہے اگر پھر بھی ہمارے احتجاج کو خاطر میں نہیں لایا جاتا اور ان دونو ں آفسروں کی جگہ غیر جانبدار اسسٹنٹ ریٹرننگ آفسران تعینات نہیں کیے جاتے تو ہم مجبورا پھر احتجاج کی طرف جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں