بھارت کا میانمار کی سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کا فیصلہ
انڈین وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے سینکڑوں کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ کا اعلان میانمار کی شورش زدہ ریاست رخائن میں باغی گروپ کی جانب سے انڈیا کی سرحد سے متصل ایک قصبے پر قبضہ کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا۔ انڈیا کی حکومت میانمار کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد پر باڑ لگانے اور پڑوسی ملک میں خانہ جنگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان فری موومنٹ ریجیم (ایف ایم آر) معاہدے کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انڈیا کے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے تقریباً ایک ہزار میل طویل سرحد کو مضبوط بنانے کا اعلان میانمار کی شورش زدہ ریاست رخائن میں ایک نسلی باغی گروپ کی جانب سے انڈیا کی سرحد سے متصل ایک قصبے پر قبضہ کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ نئی دہلی اور ینگون کے درمیان ایک ایف ایم آر معاہدے کے تحت دونوں جانب سے لوگوں کو بغیر ویزا کے ایک دوسرے ملک میں 10 میل تک سفر کرنے کی اجازت ہے۔ سال 2018 میں اس معاہدے کے نفاذ کے بعد سے میانمار میں (نسلی) تشدد سے فرار ہونے والے ہزاروں افراد انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ میانمار کی مغربی ریاست چن سے تقریباً 30 ہزار افراد نے 2021 کی اس فوجی بغاوت کے بعد سے انڈین ریاست میزورم میں پناہ لے رکھی ہے جس میں ’جنتا فوج‘ نے جہموریت پسند اور نوبیل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے نے قبضہ کر لیا۔ نسلی اقلیتی فورس ’دا تھری برادر ہوڈ الائنس‘ کی جانب سے اکتوبر میں شروع کی گئی فوج کے خلاف مربوط کارروائی کے بعد ابھرنے والی تشدد کی تازہ لہر کے دوران میانمار کے کم از کم 416 فوجی بھی انڈیا میں داخل ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی خبر کے مطابق انڈین حکام میانمار کے فوجیوں کو سرحد پار کرنے کے چند دنوں کے اندر واپس بھیج رہے ہیں۔


