بلوچستان کا فیصلہ کسی پرفضاءمقام پر ہونے والے معاہدے کے تحت نہیں، بلوچستان کا ووٹر کرے گا ، لشکری رئیسانی

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ وحلقہ این اے 263 سے امیدوار نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا فیصلہ کسی پرفضاءمقام پر ہونے والے معاہدے کے تحت نہیں، بلوچستان کا ووٹر کرے گا ، این اے 263 پر بننے والا غیرفطری اتحاد سیاسی دکانداری بند ہونے سے بچانے کیلئے ہے،کوئٹہ شہراور صوبے کے لوگ اپنے ووٹ کی طاقت سےاس سیاسی عمل کو آگئے بڑھائیں جو صوبہ اور عوام کی نمائندگی کرے ، کوئٹہ کے شہری انتخابی مہم کا حصہ بن کر شعوری جدوجہد کو آگئے بڑھانے کےساتھ معاشرے میں ووٹ کی طاقت کو اجاگر کریں جس طاقت سے قومیں اپنی زندگیاں تبدیل کرتی ہیں۔یہ بات انہوںنے بدھ کو حلقہ پی بی 41 میں اللہ ڈنہ روڈاور پی بی43 میں جناح ٹاﺅن ، کلی اسماعیل میں انتخابی دفاتر کے افتتاح پر منعقدہ اجتماعات اور میر یاسین لانگو کی رہائش گاہ پر حلقے کے لوگوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، اجتماع سے سابق صوبائی وزیر و پی بی 43 سے امیدوار محمد اسماعیل گجر ، رضاءالرحمٰن ، وقار خان خلجی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ وزارت ، ذاتی مراعات یا پی ایس ڈی پی کیلئے نہیں آئندہ نسلوں کیلئے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں ،8 فروری کو عوام کی تائید و حمایت سے منتخب ہوکر بلوچستان کے ہر ضلع میں ریزیڈینشل ڈیجیٹل لائبریری قائم کریں گے جہاں طلباءکو رہائش کی سہولیات بھی میسر ہوں گی اور وہ وہاں مقابلے کے امتحانات کی تیاری بھی کرسکیں گے ،کوئٹہ شہر اور صوبے میں نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کیلئے ٹیکنیکل ادارے قائم کریں گے ، کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں کو جدت کی طرف لے جائیں گے اور اس کا آغاز سول اسپتال کوئٹہ کو اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال بناکر کریں گے ، کوئٹہ اور صوبے کے طلباءکیلئے اسکالرشپس مزید اضافہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا فیصلہ بلوچستان کا ووٹر کرئے گا کسی پر فضاءمقام پر ہونے والے معاہدے کے تحت بلوچستان کا فیصلہ نہیں ہوگا ،حلقہ این اے 263 پر بننے والا غیرفطری اتحاد سیاسی دکانداری بند ہونے سے بچانے کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلام آباد دھرنے پر بیٹھی خواتین کے پاس 22 سینیٹرز میں سے کوئی ایک نہیں گیا ان میں قوم پرسی کے بڑے بڑے دعویٰ کرنے والے بھی شامل ہیں ان لوگوں کو بلوچستان کے مسائل پر خاموش ہونے کے عوض وہاں تک پہنچایا گیاہے، انہوں نے کہا کہ 2018ئ کے انتخابات میں شہر کے کارکنوں کے اجتماعی حق کو چوری کیا گیا اپنے ووٹر اور وہ پانچ سال جو اس صوبہ اور شہر کے ضائع کیے گئے اس کیلئے گزشتہ روز دوبارہ عدالت گیا ، انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو کوئٹہ کے شہری اپنے ووٹ کے ذریعے نظام کی درستگی اور قومی امور کو آگئے بڑھانے کیلئے اپنی رائے دیں مجھے توقع ہے کہ کوئٹہ کے شہری اپنا ووٹ آئندہ نسل اور مستقبل کیلئے دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں