مسلسل استحصال کے باعث پشتون بلوچ عوام میں ریاست سے نفرت اپنے عروج پر ہے، خوشحال خان کاکڑ

کوئٹہ(یو این اے) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتون بلوچ قومی یکجہتی اشد ضروری، مسلسل ظلم ، جبر اور استحصال کے باعث پشتون اور بلوچ عوام میں ریاست سے نفرت اپنے عروج پر ہے قومی غلامی سے نجات اور اپنے وسائل پر اختیار کیلئے ایک دوسرے کا ساتھ دیکر تاریخی اور سیاسی رشتوں کو مزید مضبوط کرنا ہوگا، غلامی سے نفرت ،غیرت، جرات، وفاداری دونوں قوموں کے خون میں شامل اور مشترکہ میراث ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہزارگنجی اختر آباد میں شمولیتی اجتماع سے خطاب میں کیا ۔ اس موقع پر حاجی فضل الرحمن شاہوانی کی قیادت میں 25 خاندان، سدوخان محمد خیل مع41 خاندان، بخت محمد بڑیچ، محمد جان اچکزئی، امیرجان اچکزئی، عبداللہ جان اچکزئی، نجیب خان، سیف الرحمن، نوراللہ دولتزئی، ارباب سلیمان کاسی، ارباب اقبال کاسی، نوید جان محمد حسنی، امیر شاہ خلجی، میر محراب خان شاہوانی، محمد سلیم مینگل، حاجی بختیار خلجی اور ہزارگنجی کے تاجر حمیداللہ جان نے اپنے خاندانوں سمیت پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس شمولیتی اجتماع سے پارٹی کے صوبائی صدر نصر اللہ خان زیرے، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری رحمت صابر، این اے 264 کے امیدوار حاجی نورگل خلجی، پی بی 40 کے امیدوار اکبر کلیوال اور حاجی فضل الرحمن شاہوانی نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ پشتونخوانیپ کی سیاست کامحور پشتونوں کو قومی غلامی سے نجات اور ہر قسم کے جبر و استحصال سے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہر محکوم قوم اورمظلوم انسان کی حق میں آواز بلند کرکے انکی جدوجہد میں مدد فراہم کرنا ہے اور استعماری و ظالم قوتوں کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرکے استحصال کی ہر شکل کو نیست و نابود کرنا ہے۔ پارٹی بلوچ قومی تحریک کے برحق جدوجہد، قومی حق ملکیت اور حق حاکمیت کیلئے جاری جدوجہد کو ہر مرحلے پر ممکنہ تعاون اور مدد فراہم کریگی اور بلوچ قوم کو کبھی بھی مایوس نہیں کریگی اور تمام تر مشکل حالات کے باوجود انکے ساتھ ہونے والے ہر ظلم و بربریت پر خاموش نہیں رہیگی جبکہ انہوں نے بلوچ قومی تحریک سے وابستہ قوتوں سے بھی اسی قسم کی حمایت اور تعاون کی توقع ظاہر کی تاکہ مشترکہ دشمن کو شکست سے دوچار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی بقا حقیقی جمہوریت، قوموں کی برابری اور رضاکارانہ فیڈریشن سے وابستہ ہے اور جب تک ان بنیادی اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا اس وقت تک بحرانوں سے نکلنا ناممکن ہے کیونکہ اقتدار پر قابض قوتوں کا 1940 کے قرارداد پاکستان سے روگردانی کے نتیجے میں ایک بڑا حصہ بنگلہ دیش کی صورت میں پہلے سے ہی الگ ہوچکا ہے جبکہ باقی ماندہ پاکستان کوقوموں کے قید خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی قوموں کے بنیادی انسانی حقوق سے مسلسل انکار اور انکے ساتھ غلاموں جیسے برتاو کی وجہ سے ان قوموں میں ریاست کے خلاف شدید نفرت کوئی پوشیدہ بات نہیں رہی اور اب تو نوجوان حتی کہ خواتین، بوڑھے اور بچے اس نفرت کااظہار واشگاف الفاظ میں کرنے لگے ہیں جو ریاست اور اقتدار پر سالہا سال سے قابض قوتوں کی انکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ غداری کا لیبل لگا کر لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے ، ٹارگٹ کلنگ، تشدد، مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور جمہوری آوازوں پر قدغن لگا کر انہیں خاموش کرنے جیسے حربوں کے ذریعے مزید اس ملک کو چلایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی ظلم اور جبر کے ذریعے قوموں اور عوام پر من مانے فیصلے مسلط کرکے انہیں حقوق سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ملک میں شامل قومیں اپنی اپنی سرزمینوں پر آباد ہیں نہ تو انکے وطن کسی نے انہیں خیرات میں دیے ہیں اور نہ ہی کسی کے مفتوحہ ہے بلکہ یہ ہزاروں سالوں سے ان قوموں کے مسکن رہے ہیں اگر قوموں کے مسائل پر مزید چشم پوشی اختیار کی گئی اور برحق مطالبات کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو سن کر ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہ کیا گیا تو پھر فیڈریشن کا وجود رکھنا انتہائی مشکل ہوگا اور بنگلہ دیش بننے سے بھی زیادہ واقعات جنم لیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہوکر پشتونخوانیپ کی نامزد امیدواروں کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کریں اور انہیں خدمت کرنے کا موقع دیں کامیابی کی صورت میں پارٹی کے منتخب نمائندے محکوم اقوام اورمظلوم عوام کی نہ صرف آواز بنیں گے بلکہ علاقوں کی اجتماعی ترقی کیلئے حکومتی اداروں کو متحرک کرکے تمام بنیادی مسائل کی حل کیلئے دن رات محنت کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں