ایف بی آر کی جانب سے پوائنٹ اف سیل سسٹم یکم جولائی سے لازمی قرار
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایف بی آر کی جانب سے ایس ار اوجاری کیا گیا جس میں فیڈرل بورڈ اف ریونیو نے نجی اسکولوں، ہسپتالوں ، بڑے پرچون فروشوں، ہوٹلوں ، فٹنس سینٹرز سمیت درجنوں کاروباروں کے لیے پوائنٹ اف سیل سسٹم یکم جولائی 2024 سے لازمی قرار دے دیا ۔ایس ار او کے تحت پوائنٹ اف سیل سسٹم کیلئے کاروباری اداروں کو ایف بی آر کے منظور کردہ سافٹ ویئر اور ہارڈویئر نصب کرنا ہوں گے۔ دوسری جانب ایسی ڈیوائسز فروخت کرنے والے وینڈرز سے کہا گیا ہے کہ وہ لائسنس کے حصول کے لیے ایف بی ار کو درخواستیں دیں۔اس سے پہلے پوائنٹ اف سیلز سسٹم نصب کرنے کی ذمہ داری صرف بڑے پرچون فروشوں اور مخصوص بڑے کاروباروں پر ہی عائد ہوتی تھی۔تاہم اب درجنوں پروفیشنل سروس پرووائڈرز، ہیلتھ کیئر پرووائڈرز ریٹیلرز بشمول مینوفیکچرر کم ریٹیلرز، ہول سیل، ریٹیلرز، امپورٹ کم ریٹیلرز کو ان کاروباروں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں پوائنٹ اف سیل لازمی ہے۔جن کاروباروں کو پوائنٹ اف سیل نصب کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں سڑک کے ذریعے انٹرسٹی سفر کی سہولت فراہم کرنے والے ٹرانسپورٹرز بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایسے فوٹوگرافرز، ویڈیو گرافرز اور ایونٹ مینجرز پر بھی اس نئے قانون کا اطلاق ہوگا جو 50 ہزار سے زائد فی ایونٹ فیس لیتے ہیں۔ اس سے کم فیس لینے والوں پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔طب کے شعبے میں دندان سازوں، پلاسٹک سرجنز، جانوروں کا علاج کرنے والے طبی ماہرین، ایکس رے لیبارٹریوں سمیت ہر طرح کے ایسے طبی ادارے کو پوائنٹ اف سیل نصب کرنا ہوگا جہاں 500 روپے سے زائد فیس لی جا رہی ہے۔نجی اسکولز ، کالجز، جامعات، پروفیشنل انسٹیٹیوشنز اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں پر پوائنٹ اف سیلز کی تنصیب لازمی ہے جہاں پر فی بچہ ایک ہزار روپے سے زائد فیس وصول کی جا رہی ہے۔ جہاں فی بچہ فیس ایک ہزار روپے سے کم ہے وہاں پر پوائنٹ اف سیلز کی تنصیب لازمی نہیں۔ایف بی ار نے ان کاروباروں کا ذکر بھی کیا ہے جہاں پر پوائنٹ اف سیلز درکار نہیں ہوگی ، ان میں 45مربع فٹ سے کم جگہ پر قائن نان اے سی ہوٹلز، چھوٹے نان اے سی ریسٹورنٹس، ریٹیلرز کسی قومی یا بین الاقوامی چین سے مستحق ہیں انہیں الگ سے پوائنٹ اف سیلز نصب کرنے کی ضرورت نہیں، چھوٹے ریٹیلرز جہاں پچھلے 12مہینے میں 12ہزار سے کم بل آیا ہو، جن بیوٹی پارلرز کلینکس اور مسائل سینٹرز میں ایئر کنڈیشنر موجود نہ ہوںاور وہ ٹرانسپورٹر بھی مستثنیٰ ہیں جن کی گاڑیوں کی تعداد پانچ سے کم ہے یا جن کی گاڑیاں ایئر کنڈیشنڈ نہیں


