روجھان میں ڈاکوﺅں نے دو ہنر مندوں کو قتل کرکے لاشیں دریا میں پھینک دیں، مقدمہ درج

صادق آباد (انتخاب نیوز) روجھان میں ڈاکوﺅں کے ہاتھوں اغوا اور قتل ہونے والے صادق آباد کے 2 ہنر مندوں کے لواحقین اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔ صادق آباد میں چھتوں کی سیلنگ کا کام کرنے والے دو ہنرمند احسن فاروق اور محمد شہزاد کو کام کاج کے لیے کال موصول ہوئی تو وہ روجھان چلے گئے لیکن 17 روز گزر جانے کے باوجود دونوں کا پتا نہ چل سکا۔ شہزاد کے بھائی کو اغوا ہونے کی اطلاع ملی تو وہ روجھان کے کچے کے علاقے پہنچ گیا، جہاں سے پتا چلا کہ ڈاکوﺅں نے دونوں کو مار کر لاشیں دریائے سندھ میں پھینک دی ہیں۔ مقتول شہزاد کے بھائی کا کہنا ہے کہ روجھان پولیس نے سوائے مقدمہ درج کرنے کے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی مدد آپ کے تحت دریا سے لاش تلاش کی، پولیس سے ہمیں کوئی تحفظ نہیں ہوا ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے تو گئے مگر آنے والی نسل بچ جائے۔ انکا کہنا تھا کہ باہر سے پتہ چلا تو ہم قرآن لے کر گئے تھے انہوں نے کہا ہم نے مار دیا، انہوں نے مزاحمت کی تھی۔ مقتول احسن فاروق جماعت اسلامی کا کارکن تھا، جس کے اغوا اور قتل پر جماعت اسلامی کی جانب سے 2 بار شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ شہزاد اور احسن فاروق کو پہلے اغوا کیا پھر بے دردی سے قتل اور پھر مشکل سے لاشیں ملیں یہ ایک گھر کا نہیں پورا علاقہ غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ مقتول کے بھائی کا کہنا تھا کہ تین صوبوں کے سنگم پر واقع اس علاقہ میں ضلع کی پولیس ہے، چپے چپے پر چوکیاں ہیں، سرے سے شام کو ٹریفک کو ختم کردیا گیا، یہ وفاق سندھ بلوچستان حکومتوں کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مریم نواز اور وزیر اعلیٰ سندھ اور بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوٹس لیں، ہم امن مارچ کریں گے حساس ادارے پولیس سارے ادارے قوم کو جوابدہ ہیں کیا یہ سب عوام کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں، ڈاکو کچے کی بغیر کسی سہولت کاری کے کیسے محفوظ بیٹھے ہیں۔ صادق آباد پولیس کا کہنا ہے اغوا کے واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں جبکہ روجھان پولیس کہتی ہے ڈاکو جدید اسلحہ سے لیس ہیں، کچے کے نوگو ایریا میں ڈاکوﺅں کیخلاف آپریشن جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں