بلوچستان ہاﺅس اسلام آباد میں تعمیراتی کام کے ٹینڈرز کی منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت

کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان ہائی کورٹ میں بلوچستان ہاﺅس اسلام آباد میں تعمیراتی کام کے ٹینڈر کی متعدد بار منسوخی کے خلاف دائر درخواست سماعت ہوئی ۔ درخواست کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس جناب جسٹس شوکت رخشانی نے کی۔عدالت نے سماعت کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کو بھی طلب کرلیا۔قائم مقام چیف جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے بلوچستان ہاوس اسلام آباد میں لکثرری فلیٹس کی تعمیر، صوبے میں اسکولوں کی ابتر صورتحال، لسبیلہ، کوئٹہ اور گوادر میں لیویز کی بھرتیوں اور صوبے کی خالی آسامیوں سے متعلق وزیر اعلی بلوچستان سے سوالات کئے اور ریمارکس دئےے کہ صوبے کے 12 کلو۔میٹر میں ایک سکول نہیں اور کہیں 3 کلومیٹر پر دس سکول ہیںترقیاتی اسکیمات کے حوالے سے میکنزم بہتر کیا جائے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے عدالت کے احکامات اور خواہشات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے بتایاکہ عدالتی احکامات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، میرے کام میری باتوں سے زیادہ واضح ہوگا، صوبے میں پرائمری اور ہائی اسکولوں کی تعداد کم ہے پسماندہ صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان ہاوس میں لکثری آپارٹمنٹس بنائے جارہے ہیں ہم نے بلوچستان ہاوس کے لکثری آپارٹمنسٹس کی تعمیر منسوخ کردی ہے، عدالت عالیہ بھی آپارٹمنسٹس کی تعمیر سے متعلق اپنی ہدایت جاری کردے، حکومت کی کوشش ہے کانٹریکٹ ملازمتیں فراہم کریں، بجٹ میں 42 بی ایج یو ایسے ہیں جن کا وجود ہی نہیں، ترقیاتی منصوبوں کے کنسیپٹ پیپز جناح روڈ پر بنتے ہیں۔بعدازاں کیس کو ملتوی کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں