لیویز اہلکاروں نے بدترین تشدد کرکے نوجوان کو قتل کردیا، حکام بالا انصاف فراہم کریں، قبائلی عمائدین
کوئٹہ (یو این اے) پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنما ملک عبدالحمید خانسیاسی و قبائلی رہنماوں دلبر خان ناصرمحمد ایوب ناصر اور حاجی خان زمان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ہماے ایک نوجوان کو موٹر وے پولیس کے کہنے پربوستان لیویز اہلکاروں نے تحویل میں لیکر پوچھ گچھ کے دوران بد ترین تشدد کر کے بچے کو حوالا ت میں قتل کر کے بعد ازاں بچے کی لاش کو والدین کو اطلا ع کیے بغیر سول ہسپتال کوئٹہ پہنچا دیا گیا، پولیس کی ملی بھگت سے بچے کا پوسٹ مارٹم غلط بنایا گیا۔ آئی جی پولیس بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان چیف جسٹس بلوچستان نوٹس لیکر ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز دیگر قبائلی عمائدین کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبائلی معتبرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پشین کے علاقے بوستا ن کے مقام پر موٹر وے پولیس نے ہمارے ایک نوجوان زبیر احمد ولد امو خان کو ایکوا گاڑی کے ساتھ پکڑ کر پوچھ گچھ کیلئے لیویز تھانہ بوستان کے حوالے کر دیا موٹروے پولیس نے لیویز اہلکاروں کو یہ بتایا کہ ایک بچہ بمعہ ایکوا گاڑی ہماری تحویل میں ہے ا ن خلاف قانونی قانونی کارروئی عمل میں لائی جائے جس پر لیویز اہلکاروں نے بچے کے والدین کو اطلاع کیئے بغیر ایک گھنٹہ حوالات میں بند کر کے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بچے کو قتل کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ بچے کی تشدد زدہ لاش کو والدین کو اطلا ع کیئے بغیر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا جہاں پر پولیس سرجن کے ساتھ ملی بھگت سے بچے کی پوسٹ مارٹم کو خودکشی قرار دیا گیا کہ بچے نے گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی ہے کی جو کہ سراسر غلط ہے اعلی حکام نے نوٹس لیکر ہمیں انصاف فراہم کیا جائے


