قاضی فائز عیسیٰ اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھی دھمکی آمیز خط موصول

لاہور (انتخاب نیوز) جسٹس قاضی فائز عیسی کو بھی دھمکی آمیز خط موصول۔ ذرائع کے مطابق مشکوک خط کا معاملہ سپریم کورٹ ججز تک بھی پہنچ گیا، چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوا، چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے 4 ججز کو بھِی دھمکی آمیز خط موصول ہوئے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس امین الدین کو دھمکی آمیز خط موصول ہوئے۔ سپریم کورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خط گلشاد خاتون کی جانب سے بھیجا گیا۔ ذرائع کے مطابق خط یکم اپریل کو سپریم کورٹ میں موصول ہوئے، تمام خطوط میں پاو¿ڈر پایا گیا اور دھمکی آمیز اشکال بنی ہوئی تھیں۔ ذرائع نے بتایا کہ خطوط کو کاو¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے۔ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس عالیہ نعیم کے نام پاو¿ڈر بھرے دھمکی آمیز خط بھیجے گئے تھے۔ تاہم اب لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے۔ رجسٹرار آفس کے مطابق خط میں پاﺅڈر اور دھمکی آمیز تحریر موجود ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے بعد سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے ججز بھی دھمکی آمیز خطوط موصول ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں