پارلیمنٹ برائے نام ہے، مقتدرہ آئین کو ماننے سے انکاری ہے، افراسیاب خٹک

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ممتاز سیاستدان مختار باچا کی یاد میں پریس کلب کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس سے بزرگ سیاستدان نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے مرکزی ریسرچ اینڈ پالیسی کمیٹی کے سربراہ افراسیاب خٹک نے کہا کہ مختار باچا نے چھے دہاہیوں تک متحرک سیاسی رہنما کی حیثیت سے جدوجہد کی۔ 1970 سے میرے سیاسی رفیق رہے، وہ بائیں بازو کے روشن خیال اور ترقی پسند سیاستدان تھے اور بلند کردار کے مالک تھے، افراسیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان کے جملہ مسائل کا حل نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے پاس تھا جسے پنپنے نہیں دیا گیا اور سقوط ڈھاکہ ہوا میر غوث بخش بزنجو نے ذوالفقار علی بھٹو کو واضع پیغام بھیجا کہ آج طاقت کے گھمنڈ میں آپ جو اقدامات کررہے ہیں کوئی طاقتور آکر آپ کے ساتھ وہ کچھ کریگا جو آج آپ ترقی پسند جمہوریت دوست قوتوں کے ساتھ کررہے ہو اور تاریخ گواہ ہے وہی سب کچھ ضیاالحق نے بھٹو کے ساتھ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شدید ترین بحرانوں سے دوچار ہے، ریاستی ادارے مفلوج ہوگئے ہیں، پارلیمنٹ برائے نام ہے، قومی محکومی بدترین شکل میں ہے، مقتدرہ آئین کو ماننے سے انکاری ہے، بلوچ اور پشتون نے انگریز کیخلاف سو سال تک جنگ لڑی مگر غلامی قبول نہیں کی، سیاسی و معاشی بحرانوں سے دوچار ریاست کس طرح سے طاقت کے زور پر ان کو ان کے بنیادی وسائل سے محروم کرسکتی ہے۔ افراسیاب خٹک نے کہا کہ پہلے انتخابی دھاندلی ہوتی تھی حالیہ انتخابات میں انتخابی ڈاکا پڑا اور پیسے جہازوں کے ذریعے باہر منتقل ہوئے۔ پاکستان بغیر آئین نہیں چل سکتا جو موقف اور مستقل مزاجی ہمارے اکابرین نے اختیار کی وہ موقف اور استقامت ہمیں بھی اختیار کرنا ہوگا تب پاکستان ٹھیک ہوگا، عوام کو حق حاکمیت ملے گی اور خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی جمہوریت کے قیام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے جمہوری قیادت کو یکجا ہونا پڑے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری محبت کاکا ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قادر نائل، نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر جان محمد بلیدی، نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی صوبہ خیبر پختونخوا کی چیئرپرسن بشریٰ گوہر، نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر رکن صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر حاجی عطا محمد بنگلزئی نے خطاب کرتے ہوئے بزرگ رہنما مختار باچا کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور قومی نابرابری و طبقاتی جبر کے خلاف ان کی طویل جدوجہد پر شاندار الفاظ سے خراج عقیدت پیش کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں