بلوچ طلبا کی ماورائے عدالت گرفتاری اور لاپتہ کرنا تشویشناک عمل ہے، بی ایس ایف

کوئٹہ (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی وائس چیئرمین طارق بروت نے بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے بلوچ نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کرکے انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو کہ بذات خود ملکی آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے، بحیثیت طلبا نمائندہ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے تسلسل کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اب اس میں مزید شدت آئی ہے۔ 11 مئی 2024 کو رات دو بجے لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے شعبہ جیولوجی سے فارغ التحصیل نوجوان حیات بلوچ ولد جمعہ بلوچ کو ان کے گھر والوں کے سامنے لاپتہ کردیا گیا، جبکہ بعد میں سی ٹی ڈی نے حیات بلوچ کو عدالت میں پیش کرکے بے بنیاد الزام لگا کر ان پر دہشتگردی کا مقدمہ درج کرلیا جوکہ ایک پروفیشنل طالب علم پر ایسے الزامات لگانا قابل افسوس اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں بلوچ طلبا خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی سرگرمیوں پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ بی ایس ایف کے مرکزی وائس چیئرمین طارق بروت نے اپنے بیان کے آخر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حیات بلوچ کو انسانیت کی بنیاد پر رہا کرکے ان کے لواحقین کو انصاف دیا جائے اور اس کے علاوہ بلوچ طلبا کو تحفظ دینے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں