میرے اور ساتھیوں کے اوپر اغوا کا مقدمہ انتقامی کارروائی ہے، گورگین مینگل

وڈھ (انتخاب نیوز) بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل کے بیٹے گورگین مینگل کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔ وڈھ مقدمہ وڈھ بازار سے دو افراد کو اغوا کرنے میں پسند خان رئیسانی کی مدعیت میں پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا۔ وڈھ اختر مینگل کے بیٹے گورگین و دیگر خلاف مقدمے میں دفعہ بجرم 365، 337H2, 147,148,149 شامل ہے۔ وڈھ مقدمہ میں گورگین کو مرکزی ملزم شامل کردیا گیا ہے۔ وڈھ مقدمہ وڈھ پولیس تھانہ میں درج کیا گیا۔ علاوہ ازیں سردار اختر مینگل کے صاحبزادے گورگین مینگل کی جانب سے کہا گیا کہ دو دن پہلے دو بھتہ گیروں کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ انہوں نے پہلے بھی وڈھ کے رہائشیوں کو کال کرکے دھمکیاں دی تھیں اور کہا تھا کہ اگر انہوں نے رقم نہ دی تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ گورگین مینگل نے کہا کہ وڈھ کے لوگوں نے انہیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، مگر بعد میں ان کے افسران کے دباﺅ کی وجہ سے پولیس نے انہیں رہا کردیا، حالانکہ ان کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ یہ واضح طور پر دکھاتا ہے کہ انتظامیہ وڈھ کے مسائل اور لوگوں کی تشویش کو کتنا سنجیدگی سے لیتی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کل اپنے مزید اقدامات کا اعلان کرے گی۔ ہم کسی بھی ڈیتھ اسکواڈ کے ممبران کو وڈھ شہر میں آکر ہمارے لوگوں کو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم نے پہلے بھی اپنے لوگوں کا ساتھ دیا ہے اور آخری سانس تک دیتے رہیں گے۔ میرے اور میرے لوگوں کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے سے ہم پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کا ہر کارکن اور رہنما ان ہتھکنڈوں سے واقف ہے جو ہماری آواز کو دبانے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اس طرح کی تکنیک ہمیں خوفزدہ نہیں کریں گی۔ ہم جیل جانے اور اس سے بھی بدتر حالات کے لیے تیار ہیں۔ آج وڈھ میں جو بھی صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں