بلوچستان میں صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہو رہے ہیں، ضیاءلانگو
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے کہا ہے کہ لوگ آپریشن کو ایسا تصور کرتے ہیں جیسے حکومت اپنے عوام پر کوئی ظلم کر رہی ہے حالاں کہ اس کارروائی کا ہدف وہ انتہا پسندی ہوتے ہیں جو عوام کو چین سے جینے نہیں دیتے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ مشتبہ افراد پنجاب سے آنے والے مزدوروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں لہذا ایسے عناصر کے خلاف حکومت آپریشن نہ کرے تو پھر کیا کرے۔ضیااللہ لانگو نے کہا کہ فی الحال اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لیے صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا لیکن مختلف اقسام کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ضرور کیے جاتے رہتے ہیں کیوں کہ حکومت نے تہیہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کو کسی صورت نہ بخشا جائے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن اسے کہا جاتا ہے جیسا خیبر پختونخوا میں کیا گیا تھا کہ لوگوں کو گھروں سے نکال نکال کر مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کی گئی تھیں لیکن بلوچستان میں ایسا کوئی آپریشن جاری نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور ہماری زندگی اور معیشت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ 2،3 دہائیوں سے افغان سرزمین پر ہمارے دشمنوں کا اثرورسوخ بڑھ چکا ہے۔صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ہمارا مسئلہ صرف یہ ہے کہ دشمن ملک افغان سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے۔ ضیااللہ لانگو نے کہا کہ صوبے میں بڑھتی اشتعال انگیزی صرف حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی بھی ناکامی ہے جب تک عوام اور حکومت اس ناسور کے خلاف ایک پیج پر نہیں ہوں گے اور ان عناصر کی حوصلہ شکنی نہیں کریں گے تب تک اس کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ بحثیت قوم ہم دوہرے معیار کے لوگ ہیں جب شر پسند عناصر عوام کو نشانہ بناتے ہیں تب وہ انہیں برا کہتے ہیں اور جب ہم ان عناصر کے خلاف ایکشن لیتے ہیں تو ہم پر تنقید کی جاتی ہے لہذا عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کا ساتھ دیں گے یا پاکستان کا کیوں کہ عوام کے ساتھ اور حمایت کے بغیر اشتعال انگیزی سے جنگ جیتنا ناممکن ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں ضیااللہ لانگو نے کہا کہ میری نظر میں سب سے زیادہ قیمتی چیز انسانی جان ہے لہذا جو بھی جس جگہ انسانی جان کو نقصان پہنچائے گا وہاں ایکشن لیا جائے گا۔صوبائی وزیرداخلہ نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمے داری ہے اور اگر اس معاملے میں کوئی غفلت برتے گا تو اسے بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔


