پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے مختلف اداروں کے ملازمین کے حقوق کے لئے احتجاجی مظاہرے
اسلام آباد(صباح نیوز)پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے مختلف اداروں کے ملازمین نے اپنے حقوق کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے ،مطالبات منظور نہ ہونے پر وفاقی بجٹ کے موقع پر ملازمین نے بڑے دھرنے کا اعلان کردیا ۔ ہاؤس رینٹ تنخواہوں میں اضافے،عارضی ملازمین کومستقل کرنے تنخواہوں کی ادائیگی دیگر مطالبات شامل ہیں منافع بخش اداروں کی نجکاری کو بھی مستردکردیا گیا۔ مظاہروں کے موقع پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری اور ایف سی کا دستہ تعینات تھے ،سیاسی جماعتوں کا کوئی نمائندہ اظہاریکجہتی کے لئے نہ پہنچ سکا۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں،آئیسکو،پاکستان ریلویز،اوراساتذہ نے چارٹر آف ڈیمانڈکے بینرز کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کئے۔آئیسکوکے ملازمین نے آئی پی پیز کے خلاف بھی نعرے لگائے اور واضح کیا کہ منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے۔ملازمین کی بڑی تعداد پارلیمینٹ ہاؤس کے گیٹ کے سامنے پہنچ گئی تھی تنخواہوں اور انکریمنٹ سے محروم خواتین اساتذہ بھی مظاہرہ میں شریک تھی خواتیں جب کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ملازمین نے سبزہ زارمیں دھرنا دے دیئے ان مظاہرین کی قیادت مزدوررہنما عاشق خان کررہے تھے۔پولیس و انتظامیہ کے افسران نے ملازمین کی تنظمیوں کے رہنماؤں سے مذاکرات کئے اور چارٹر آف ڈیمانڈ سے متعلقہ وزارتوں کو آگاہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی مطالبات سے آگاہ کیا ۔پاکستان ریلویز کے رہنماؤں نے عارضی ملازمین کو مستقل، نکالئے گئے ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس کے تنخواہوں میں 100 فیصد ہاؤس رینٹ الاونس ، میڈیکل الانس اور کنوینس الانس میں 200 فیصد اضافہ کے مطالبات سر فہرست ہیں۔ پنشن میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے،مزدور کی اجرت کم از کم پچاس ہزار کی جائے۔ مطالبات پورے نہ ہونے پر وفاقی بجٹ کے موقع پرچھ اور سات جون کو پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔


