خاران میں حفظان صحت کی بدترین صورتحال
خاران(مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کے علاقے خاران میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، سبزی فروش تازہ سبزیاں مہنگے داموں میں بیچنے لگے اور کچروں اور گلے سڑھے سبزیوں کو الگ سے رکھ کر کم قیمت اور پیکج کے نام سے بیچتے ہیں۔کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاہکوں کو سبزیوں پر کیڑے صاف دکھائی دیتی ہیں ، عوامی حلقوں نے شکایات بتاتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ سبزیوں کے ساتھ ساتھ گوشت کے بھی حالات یہی ہیں، گوشت فروشوں کا تو اپنا خود کا بنایا ہوا نظام ہے ، بھیڑ بکریاں گھر میں ذبح کرتے ہیں کھال اتار کر صرف گوشت بازار میں لاتے ہیں، کیا یہ گوشت صاف ہے؟ کیا یہ کسی زندہ جانور کا ہے یا مردہ؟کچھ معلوم نہیں۔ دوسری بات برائلر مرغی اور بڑے قصاب لوگ صفائی کا خیال بالکل نہیں رکھتے ہر وقت ان کے ٹیبل پر مکھیاں بھنبنھانتی ہوئی نظر آتی ہیں، اشیاءخوردونوش کے قیمتوں ہر دکاندار کا الگ ریٹ ہے ، دکاندار اکثر زائد المعیاد ہونے والے اشیاءکو پھنکنے کے بجائے فروخت کر دیتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے مضر ہے۔شعبہ صحت ایک بہت بڑا کاروبار بن چکا ہے ، ہر دو قدم پر ایک میڈیکل اسٹور پایا جاتا ہے، کچھ ایسے میڈیکل اسٹورز ہیں جہاں پر بچے بھیٹے ہوئے ہیں جو کسی کی جان کے پرواہ کئیے بغیر اپنی طرف سے ادویات ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ایک چائے والے ہوٹل سے لے کر بڑے بھی جتنی ہوٹلز ہیں سب میں صفائی ستھرائی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں ،ویٹر سے لے کر پکوان تک سب ایسے گندے ہیں جیسے یہ کسی میکنک کی دکان پر کام کرتے ہیں ، کھلے بالوں کے ساتھ پکوان پکاتے ہیں۔ بازار میں چاول چھولے چاٹ وغیرہ بیچنے والوں کا بھی یہی حال ہے ۔ اب موسم گرما میں قلفی والوں نے گلیوں میں گھوم گھوم کر ناک پر دم کر رکھا ہوا ہے ، دوپہر کو سونے نہیں دیتے ہیں ۔عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ سے گزارش کی جاتی ہے کہ خدارا ان کے خلاف ایکشن میں آجائیں اور ایک مخصوص ٹیم بنائیں جو بھی حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ثابت ہوا ان کو بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ سخت سے سخت سزا دی جائے۔


