میرا فرزند حامد محمود زہری وراثت کی تقسیم کے حوالے سے غلط بیانی کررہا ہے، متاثرہ شخص

خضدار (بیورو رپورٹ) خضدار زیرینہ کھٹان کے رہائشی مولانا غلام مصطفی نیچاری زہری نے کہا ہے کہ چند دن قبل میرے ایک فرزند حامد محمود زہری کی میرے اور میرے خاندان کیخلاف پریس کانفرنس غلط بیانی سے کام لے کر جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی، اس کی حقیقت اور وضاحت بیان کرنا میرے اس کا نفرنس کا مقصد ہے۔ اس موقع پر انکے بھائی مولانا نوراحمد زہری سمیت دیگر عزیزواقارب اور ان کے فرزندان موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے 5 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں میں اس وقت عارضہ قلب کی وجہ سے شدید علیل ہوں، اس لیے میں اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد شریعت کے حکم کے مطابق جید علما کرام کی موجودگی اور رہنمائی میں تمام اولادوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کو برابر حصہ دے چکا ہوں لیکن بدقسمتی سے میرا ایک بیٹا حامد محمود زہری جو بلوغت سے ہی میری نافرمانی کر رہا ہے جس کی بنا پر وہ ضد اور عناد پر اتر آیا ہے اور ابھی اپنا حصہ لینے سے انکاری ہے، میری جو ذاتی ملکیت تھی وہ سب کچھ تقسیم کرچکا ہوں ان میں کچھ پوشیدہ نہیں ان کے علاوہ میرے دو بیٹے عبد الودود، عبد الماجد جو دوسرے افراد کے ساتھ شراکت (مضاربت) پر عرصہ 10 سال سے ذاتی کاروبار کر رہے ہیں ان کے کاروبار سے میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا کوئی رقم وغیرہ اس میں شامل ہے، اب میرے بیٹے حامد محمود کو کچھ لوگ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں اور انہی کے اشارے پر وہ اپنے بھائیوں کے ذاتی کاروبار میں اپنا حصہ سمجھ کر اس کو مجھ سے مانگ رہا ہے جو کہ غیر معقول اور غیر شرعی بات ہے اور اخلاقاً وقانونا بھی درست نہیں گزشتہ دنوں اپنے پریس کانفرنس حامد محمود نے اپنے بھائیوں کے کچھ ذاتی کاروباری دکانوں کا ذکر کرکے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو لحاظ اور جھوٹ پر مبنی ہے اور میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ میرے فرزندوں میں سے کسی نے بھی حامد محمود کوکوئی دھمکی نہیں دی ہے بلکہ حامد محمود نے خود بازار میں موجود ان کی دکانوں پر جاکے ان کو دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ ویڈیو بھی بنائی ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ حامد محمود جو کہ کافی عرصہ سے میری نافرمانی کا مرتکب ہے اس کے کرتوتوں کی وجہ سے پیرانہ سالی میں میری معاشرہ میں کافی بدنامی ہو رہی تھی بے حد پریشانی کا سامنا ہورہا ہے جس کی بنا پر مجبور 2020 میں ان سے لا تعلقی کا اعلان کردیا تھا جس کا اشتہار مقامی اخبارات میں شائع ہوچکا تھا۔ لہٰذا اس پر یس کا نفرنس کے توسط سے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ انہیں ایسی حرکات سے روکے اور ان کی پھیلائی گئی اس بد نامی پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں