حب، اراضی تنازعہ، سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کیخلاف علاقہ مکین سراپااحتجاج، زیرحراست افراد کوفوری رہا کیا جائے،رہنماء بھوتانی عوامی کارواں

حب(نمائندہ انتخاب ) دریجی کھڈارو مائن لیز معاملہ لیز سے متصل اراضیات پر موجود افراد کی گرفتاریاں ،دریجی سمیت ضلع حب کے مختلف علاقوں میں شدید ردعمل ،گرفتار افراد کی رہائی و دریجی سے فورسز کو نکالنے اور سیاسی انتقامی کاروائیاں بند کرنے کا مطالبہ ،مطالبات نہ ماننے کی صورت میں شاہراہیں بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ،ایک شخص کی ذاتی خواہش پر دریجی کے پُر امن حالات کو خراب کرنے کی کوشش نہ کی جائے ،حکومت بلوچستان اور آئی جی پولیس ہوش کے ناخن لیں ،بھوتانی برادران کے ووٹرز اور سپورٹرز سمیت کارکنوں کو حراساں نہ کیا جائے ،رہنماء بھوتانی عوامی کارواں ایڈوکیٹ اقبال جاموٹ کی ساتھیوں کے ہمراہ حب میں پُر ہجوم پریس کانفرنس تفصیلات کے مطابق دریجی کھڈارو مائن لیز معاملے پر بھاری فورسز کی دریجی پیش قدمی اور موجودگی کے دوران گزشتہ روز مذکورہ مائن پہاڑ کے اطراف میں اراضیات کے تنازعہ پر وہاں موجود سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کے خلاف دریجی کے مختلف علاقوں میں علاقہ مکینوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجاً سڑکیں بلاک کر کے گرفتاریوں سمیت علاقے میں فورسز کی موجودگی کے دوران مبینہ خوف وہراس پھیلانے کے خلاف احتجاج کیا اسی طرح سے گرفتاریوں کی اطلاع ملنے پر حب میں بھی حب وندر ساکران گڈانی سے بھوتانی عوامی کارواں کے کارکنوں اور رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد بھوتانی عوامی رابطہ کیمپ آفس پہنچ گئے اس موقع پر بھوتانی عوامی کارواںکے رہنماء ایڈوکیٹ اقبال جاموٹ نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 8فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد سے پیدا کئے گئے معاملات پر اسوقت بھوتانی برادران اور انکے کارکنوں ووٹرز اور سپورٹرز کے خلاف حکومتی انتقام کی کاروائیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں دریجی کھڈ ا رو مائن لینز کی حق ملکیت مائینز ڈیپارٹمنٹ مائن اونر جمیل باریجہ کے حوالے کر چکا ہے لیکن مائن پہاڑی کے اطراف کی اراضیات کے تنازعات ابھی تک حل نہیں ہوئے اور ان اراضیات کے مالکان اسوقت حج کی سعادت پر گئے ہوئے ہیں لیکن حکومت نے ایک شخص کی ذاتی خواہش پر بلوچستان سے بھاری فورسز کی دریجی میں تعیناتی کر کے وہاں پر نہ صرف خوف وہراس کی فضا ء قائم کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ علاقے کے پُر امن ماحول کو بھی خراب کرنے کی جان بوجھ کر خراب کیا جارہا ہے جب اتنے سالوں سے مائن لیز کا معاملہ التواء میں رہا ہے تو اراضیات کے مالکان کی حج سے واپسی کا بھی چند روز تک انتظار ممکن تھا لیکن محض سیاسی بغض اور انتقام کی وجہ سے دریجی کو فتح کرنے کے عزائم رکھنے والی قوتوں نے فورسز تعینات کر کے جان بوجھ کر علاقے کے پُر امن ماحول میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے جو کہ قابل مذمت ہے انھوں نے کہاکہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد سیاسی انتقام کا جو سلسلہ حب میں شروع کیا گیا دریجی میں اب اُسی کا تسلسل شروع کیا گیا ہے انھوں نے کہاکہ دریجی لیز کا مسئلہ محض ایک شخص کا معاملہ ہے اور مائن اونر جمیل باریجہ کا مسئلہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ پہاڑی سے متصل اطراف کی زمینوں پر چل رہا ہے اور یہ معاملات مختلف عدالتوں میں چلتے رہے اور اس وقت بھی کیسز چل رہے ہیں لہٰذا اس بات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ حکومت اور پولیس وہاں پر جاکر کوئی فائنل فیصلہ کرے لیکن کچھ دنوں سے حکومت بلوچستان اور بالخصوص IGپولیس اور انکے ماتحت افسران ایک شخص کے کہنے پر دریجی کے پُر امن ماحول کو خراب کرنے کیلئے فورسز کی تعیناتی شروع کرائی اور اسوقت دریجی میں سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اور اُسکے دیگر اداروں کے اہلکار وافسران موجود ہیں جو ایک شخص کی ذاتی خواہش کی تکمیل کیلئے وہاں کے عوام کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی جارہی ہیں انھوں نے کہاکہ بدھ کے روز دریجی کھڈ اروں مائن لیز کے اطراف کی زمینوں پر بیٹھے 100سے150افراد کو بلا جواز گرفتار کر کے زندانوں میں ڈال دیا گیا اور نہتے لوگوں کو گرفتار کر کے صوبائی حکومت اور آئی جی پولیس نے اپنے ظلم اور بربربت کا عملی ثبوت کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ قابل مذمت ہے اقبال جاموٹ نے کہاکہ مذکورہ گرفتاریاں غیر قانونی اور بلا جواز ہیں لہٰذا زیر حراست افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور دوسری صورت میں بھوتانی برادران کے ووٹرزسپورٹرز اور کارکن سڑکوں پر نکل کر پُرامن احتجاج ریکارڈ کرائیں گے جسکی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور IGپولیس پر عائد ہوگی اور مظاہرین کو اگر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اُسکی ذمہ داری حکومت اور پولیس ڈیپارٹمنٹ پر ہو گا انھوں نے کہاکہ ضلع حب اور ضلع لسبیلہ اور دریجی میں بھوتانی برادران کے ووٹرز سپورٹرز اور کارکنوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں دراصل ہمارے قائدین کو جھکانے کا ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے تاکہ ہمارے قائدین کے مخالفین کو خوش کیا جائے لیکن ان عناصر کی یہ بھول ہے بھوتانی برادران لسبیلہ اور حب دریجی کے عوام کے حقیقی نمائندے ہیں اور 8فروری کو بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے لیکن حکومتی مشینری کا استعمال کیا گیا انھوں نے کہاکہ کھڈارو ں مائن لیز کا معاملہ ہمارے قائدین کا ذاتی نہیں بلکہ وہاں پر لوگوں کی ذاتی اراضیات کی ملکیت کا ہے اور وہ لوگ ہمارے قائدین کے ووٹر اور سپورٹر ز ہیں اسی وجہ سے انکے خلاف انتقامی کاروائیاں کی جارہی ہیں اور ہمارے قائدین وہاں پر اپنے حق کیلئے جدوجہد کر نے والوں کی عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے انکی بھر پور اخلاقی اور قانونی طور پر مدد کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ ہمارے قائدین نے کبھی بھی کسی غیر قانونی اور ناجائز کام کی کوئی مدد نہیں کی حالیہ الیکشن کے بعد سوک سینٹر کے سامنے ہمارے دو کارکنوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا اور متعدد کو زخمی کیا گیا لیکن اسکے باوجود ہم کارکن اور ہمارے قائدین نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا بلکہ پُر امن رہے اور قانونی جنگ کا سہارا لیا لیکن اب مزید ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے اور مخالفین سمیت حکومت اور آئی جی پولیس بلوسچتان ہوش کے ناخن لیں وہ دریجی پر چڑھائی کرنے کے بجائے پہلے حب وندر اور دیگر علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول کریں جہاں پر روزانہ کی بنیاد پر چوری ریزنی لوٹ مار اور قتل و غارت گری کی وارداتیں ہو رہی ہیں لیکن یہاں پر ان حکام کی آنکھیں بند ہیں اور وہاں دریجیج کے پُر امن حالات کو پرُ تشدد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمارے قائدین کے ووٹرز کو ووٹ دینے کی پاداش میں سزا دی جارہی ہے ۔دوسری جانب دریجی مائن اراضیات معاملہ گرفتاریوں کے خلاف علاقہ مکین سراپااحتجاج حب ساکران وندر اور وڈھ سے شاہرائیں بلاک ،کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر دھرنا دیکر بیٹھ گئے پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی حالات کشیدہ ہوگئے تفصیلات کے مطابق دریجی میں مائن لیز کھڈارو کے اطراف کی اراضیات کے تنازعہ پر کھڑے ہونے والے معاملے پر دریجی میں گزشتہ پانچ دنوں سے پولیس فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی اور گزشتہ روز وہاں زمینوں پر بیٹھے لوگوں کو گرفتار کرنے کے خلاف نہ صرف دریجی کے مختلف علاقوں کے علاقہ مکین احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے روڈ سڑکیں بلاک کرکے احتجاج کیا جبکہ اِدھر حب میں بھی بھوتانی عوامی کارواں کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس میں دیئے گئے الٹی میٹم کے بعد کارکنوں کی ایک بڑی تعداد حب بھوانی مغربی بائی پاس پر پہنچ گئی اور کراچی کوئٹہ قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر قومی شاہراہ کو ٹریفک کی روانی کیلئے بند کردیا ساکران میں علاقہ مکین اور بھوتانی عوامی کارواں کے کارکنوں نے بند مراد پل اور ہمدردیونیو رسٹی سڑک کو بلاک کر کے احتجاج شروع کردیا ہے جبکہ وندر میں بھی بھوتانی عوامی کارواں کے کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور قومی شاہراہ کو بلاک کردیا گیا دریجی واقعہ کے خلاف وڈھ سے بھی قومی شاہراہ کو بلاک کر کے احتجاج کیا جارہا ہے رات گئے تک ملنے اطلاعات کے مطابق احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی اور حالات کشید ہ رہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں