خاران میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، اغوا برائے تاوان کا سلسلہ بھی شروع

خاران (نامہ نگار) خاران میں امن و امن کی صورتحال انتہائی خراب، چوری و ڈکیتی کے علاوہ اغوا برائے تعاون کا بھی سلسلہ شروع۔ ضلعی انتظامیہ بھتہ خوری تک محدود ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی مہینوں سے خاران شہر اور گردونواح کے علاقوں میں آئے روز چوری و ڈکیتی کے مختلف واقعات سامنے آئے ہیں جس سے عام شہریوں اور خصوصاً کاروباری شخصیات میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ خاران کی غ±فلت لاپرواہی اور بھتہ خوری کے سبب خاران شہر اور گردنواح چوروں کے رحم کرم پر بدقسمتی سے اب خاران کے خواتین و بچوں کی عزت کا بھی خیال نہیں رکھا جارہا ہے مسلح بااثر کلاشنکوف بردار افراد بلا خوف رات کے تاریکی میں گھروں میں گ±ھس کر خواتین و بچوں کو یرغمال اور تزلیل کرکے گھروں کا صفایا کرتے ہیں اور دیدہ دلیری سے فرار ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کئی عرصے سے خاران میں چوری و ڈکیتی کا عام ہونا اور مسلح با اثر چوروں کا علاقے میں آئے روز چوری اور اب اغوا برائے تعاون کا سلسلہ شروع ہونا اور انتظامیہ کی بے بسی سے اس طرح علاقے کو یرغمال بنانا ضلعی انتظامیہ کی نااہلی غ±فلت اور بھتہ خوری کا م±نہ بولتا واضع ثبوت ہے سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ خاران میں اتنے چوری کی واقعات کے سامنے آنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا چوروں کیخلاف ٹھوس اور خاطر خواہ کاروائی نہ کرنا بھی تشویش ناک عمل ہے گزشتہ دن سے خاران کے زمیندار اور کاروباری شخصیت مختیار مینگل ولد حاجی عبدالحمید مینگل کو مسلح کلاشنکوف افراد نے کوئٹہ کراچی کے مین شاہراہ سے دیدہ دلیری سے اغوا کرکے لے گئے جو اب تک اغوا ہیں اور ضلعی انتظامیہ نے ا±نکی بازیابی کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے اور بااثر چوروں کو چھوٹ دینا خاران کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے خاران میں حالات کی انتہائی خراب ہونا اور موجودہ ضلعی انتظامیہ کا تبادلہ نہ کرنا موجودہ ایم پی اے خاران کی کونسی مجبوری ہوسکتی ہے کیا خاران کی امن و امان کی بدحالی موجودہ دوستانہ سفارشی اور جونیئر ضلعی انتظامیہ کے ٹرانسفر سے زیادہ عزیز ہے۔ خاران کے عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان ایم پی اے خاران صوبائی وزیر خزانہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ خاران میں ماضی سے لیکر موجودہ دور تک خاران میں امن و امان کی صورتحال ہمیشہ خراب رہی ہے ضلعی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے سبب خاران میں آئے روز مسلح با اثر چور گھروں میں داخل ہوکر گھروں کا صفایا کرتے ہیں اور اب خاران میں اغوا برائے تعاون کا بھی سلسلہ شروع ہوا ہے جو خاران کے عوام کو ہرگز قبول نہیں ہے وزیر اعلیٰ و دیگر ذمہ دار ضلعی انتظامیہ خاران ذمہ دار آفیسران کی تبادلہ کو یقینی بنائے اور سینئر آفیسران تعنیات کرنے کو بھی یقینی بنائے تاکہ خاران کی عوام و امن و امان کی صورتحال بہتر ہوسکے اور خاران کے بلوچ خواتین و بچوں کی تزلیل کا سلسلہ بھی ختم ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں