کیا جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنا جرم ہے؟ حامد میر کا سمی دین بلوچ کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج پر ردعمل

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیا ایکس(ٹویٹر) پر جاری ایک بیان میں پاکستان کے معروف اینکر اور صحافی حامد میر نے سمی دین بلوچ کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سمیع دین بلوچ 2009 سے اپنے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بازیابی کے لیے آواز اٹھا رہی ہے جب وہ اسکول جانے والی بچی تھیں۔ کچھ ریاستی اداروں نے انھیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے سمی دین بلوچ سمیت متعدد افراد کیخلاف فرضی مقدمہ درج کردیا گیا۔ سمی دین بلوچ کا جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنا کیا جرم ہے؟ یاد رہے کہ سمی دین بلوچ نے اپنے خلاف درج مقدمے پر بیان جاری کرتے کہا تھا کہ بلوچ راجی مچی کی آگاہی مہم میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سرگرم کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں واشک مستونگ قلات سمیت حب چوکی کے ایف آئی آر میں مجھ سمیت درجنوں افراد کے نام بھی شامل ہیں، گزشتہ روز حب ساکران کی پرامن اجتماع کو جواز بنا کر مقدمات بنانا بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بے بنیاد مقدمات قائم کیے جارہے ہیں، مگر ان ہتھکنڈوں سے صاف ظاہر ہے کون کس سے خوفزدہ ہے۔ اس سے قبل بلوچستان کے علاقے واشک ،مستونگ ،قلات سمیت حب چوکی میں گذشتہ دنوں راجی مچی کی تیاری کے سلسلے میں شرکت پر لاپتہ افراد کے لواحقین اور بی وائی سی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے درجنوں رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کیے گئے ہیں، جن میں سمی دین بلوچ بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں  بلوچ حکومتی کمیٹی نے 28 جولائی کو گو ادر میں ایک قومی اجتماع بلوچ راجی مچی کے انعقاد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں