بلوچستان ہائیکورٹ ،ایف سی سے مکمل اختیارات پولیس اور لیویز کو جلد از جلد منتقل کرنے کی ہدایت
کوئٹہ :عدالت عالیہ بلوچستان کے جسٹس عبد اللہ بلوچ اور جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل ڈویڑنل بینچ نے ایف سی سے اختیارات سول انتظامیہ کو منتقلی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ عدالت عالیہ کی گزشتہ سماعت کے حکم کی تعمیل میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ، آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی جی لیویز نے امن و امان کی صورتحال کے سلسلے میں جامع رپورٹس پیش کی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم بلوچستان کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایف سی کی بلوچستان میں تعیناتی صرف امن وامان کی صور تحال کو برقرار رکھنے میں سول فورسز کی مدد کے تحت حاصل کی جاتی ہیں۔ جس پر کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ جبکہ آئی جی بلوچستان اور ڈی جی لیویز کی جمع کردہ رپورٹس اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بلوچستان پولیس اور بلوچستان لیویز میں یہ صلاحیت بتدریج موجود ہے کہ وہ بلوچستان میں امن و امان ( law & order situation ) کو کنٹرول کر سکے۔ اور رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں تقریباً آدھے سے زیادہ چیک پوسٹیں ایف سی سے لیویز اور پولیس کو منتقل ہو چکی ہیں۔ دیگر کے بتدریج منتقلی جاری اور ساری ہے۔ عدالت عالیہ کے معزز جج صاحبان نے متعلقہ حکام کی رپورٹس کی روشنی میں یہ اخذ کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے امن و امان کی صور تحال کو پولیس اور لیویز کو منظم کر کے قابو پایا جا سکتا ہے۔ صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری پولیس اور لیویز کی ہے جو کہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری بھی ہے ، جس سے نہ صرف ایک طرف صوبے کی بہت بڑی رقم کی بچت ہو گی بلکہ عام لوگوں کے لئے آسانی پیدا ہو گی اور انکا اعتماد بڑھایا جاسکتا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان ، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خطوط جاری کی ہیں جسمیں انکو ہدایت کی ہے کہ تمام چیک پوسٹوں پر عام ٹرانسپورٹ کی بلاوجہ چیکنگ نہ کی جائے اور نہ ہی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنی چاہیے۔ جس سے لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ عدالت عالیہ نے متعلقہ محکموں کو اس بات پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی اور ایف سی سے پولیس اور لیویز کو اختیارات جلد از جلد مکمل منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان ، آئی جی پولیس اور ڈی جی لیویز کو ائندہ تاریخ سماعت جو کہ 12 اگست 2024 پر طلب کر کے ا±ن کو جامعہ رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔


