عربوں نے ناپسندیدگی کو بنیاد بناتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار کیا، مولانا شیرانی
کوئٹہ (آن لائن) رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ انسانی اعمال میں سے جنگ اور خونریزی قبیح ترین عمل ہے اور اگر کسی وجہ سے جنگ ضروری اور جائز بھی ٹھہرے تب بھی بچوں، بزرگوں، معذوروں، خواتین اور جنگ میں غیر ملوث لوگوں کو گزند پہنچانے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا لہذا ہمیں جنگ سے مطلق نفرت کے اصول پر قائم رہتے ہوئے سفارت کاروں، خارجہ امور کے ماہرین اور اہم علم و دانش کے مشترکہ فورم پر فلسطین اسرائیل تنازعہ کا جذبات سے ہٹ کر سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیتے ہوئے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جزبات انسانی ذہن کو ماف اور عقل کو مفلوج کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں ” دفاع القدس کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں فلسطین کے تنازعے کو سمجھنا چاہیے کہ یہ زمین کی ملکیت کا تنازعہ ہے یا اقتدار اور حاکمیت کی کشمکش ہے اور اگر جھگڑا حاکمیت کا ہے تو قومی حاکمیت کا جھگڑا ہے یا مذہبی حاکمیت کا ہے مسئلہ فلسطین کے دو فریقوں میں سے ایک فریق یعنی یہودیوں کی نسل بھی ایک ہے اور عقیدہ بھی ایک ہے جبکہ دوسرا فریق یعنی عرب نسل کے اعتبار سے تو ایک ہے لیکن مذہبی حوالے سے ان میں وحدت نہیں پایا جاتا بلکہ ان میں سے کچھ مسلمان ہیں اور بعض مسیحی ہیں اگر یہ قومی حاکمیت کی جنگ ہے پھر تو یہ بات قابل فہم ہے کہ بنی اسرائیل اپنے قومی حاکمیت چاہتے ہیں جبکہ عرب اپنے قومی حاکمیت کے خواہاں ہیں لیکن اگر یہ مذہبی حاکمیت کی کشمکش ہو پھر ہمیں اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے آپس میں وہ مابہ الاشتراک امر کیا ہے جو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان موجود نہیں ہے اگر یہ مشترکہ بنیاد خدا پرستی ہے تو یہودی بھی تو خدا پرستی کا دعویٰ کرتے ہیں اگر وہ مشترک بنیاد ملت ابراہیمی ہے تو مسیحیوں اور مسلمانوں کی طرح یہودی بھی ملت ابراہیمی میں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے قیام کے وقت جب اقوام متحدہ کے جانب دو ریاستوں کے قیام کی تجویز پیش ہوئی تھی تو یہ تجویز اسرائیل کے لئے بھی ناقابل قبول تھی اور عربوں کو بھی منظور نہیں تھی لیکن اسرائیل نے اس تجویز کے لئے اپنی ناپسندیدگی کے باوجود موقع سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی ریاست کی بنیاد رکھی جبکہ عربوں نے ناپسندیدگی کو بنیاد بناتے ہوئے فلسطین کی ریاست کے قیام سے انکار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج 76 سال بعد بھی اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں فلسطین نام کا ریاست موجود نہیں ہے انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں جب دوبارہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان دو ریاستی حل کے حوالے مذاکرات شروع ہوئے تو پچھلے سال کے 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے اوپر حملہ کرکے اس سلسلے کو سبوتاژ کیا لیکن حماس نے اب تک کوئی وضاحت پیش نہیں کی کہ ان کے اس حملے کے محرکات کیا تھیں جس کے نتیجے میں ایک طرف ہزاروں مسلمان بچے شہید ہوئے اور دوسری طرف دو ریاستی حل سے انکار کا اسرائیلی خواہش اس طریقے سے پورا ہوا کہ الزام بھی اسرائیل پر نہیں آیا ۔


