گوادر میں خواتین اور بچوں پرکریک ڈاؤن منظم سازش، واقعے کی تحقیقات،گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے،آغا حسن بلوچ
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں گوادر میں بلوچ خواتین بچوں اور دھرنا کے شرکاءپر لاٹھی چارج ، شیلنگ ، گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کو دانستہ طور پر بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے الجھانے اور بحرانی کیفیت سے دوچار کرنے کی کوشش قرار دیں تو یہ بے جا نہ ہو گا گوادر میں جلسے سے ایک دن قبل ہی مستونگ میں قافلے پر فائرنگ ، 14سے زائد نوجوانوں کو زخمی کرنے ، مسافر بسوں کو نقصان پہنچانے کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ منظم سازش کے ذریعے مستونگ واقعہ اور آج گوادر میں دھرنے پر بیٹھے شرکاءکے آہنی ہاتھوں نمٹا گیا جس کا مقصد یہی تھا کہ بلوچستان میں جمہوری جدوجہد کا راستہ روک کر عوام کی آواز کو زیر کیا جائے نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنماءواجہ حسین اشرف کے گھر پر چھاپہ ، گرفتاری ، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی ، صبغت اللہ شاجی ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ، سیمی دین بلوچ سمیت درجنوں دھرنا شرکاءکی گرفتاری ، ان پر شیلنگ قابل مذمت ہے بی این پی نے ہمیشہ تشدد کی سیاست کی مذمت کی ،طاقت ، تشدد مسائل کا حل نہیں اگر طاقت کے استعمال سے مسئلے حل ہوتے تو بہت پہلے بلوچستان کے معاملات بہتر ہو چکے ہوتے لیکن تشدد کا مسائل کا حل ممکن نہیں ریاست کی ذمہ داری عوام سے زیادہ ہے لیکن آج جو حکمران اقتدار پر براجمان ہیں ان کی روش یہی رہی ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے مسئلے کو مسئلہ نہیں گردانا اسی مائنڈ سیٹ کی وجہ سے بلوچستان آج اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ اب خواتین ، بیٹیاں جیلوں اور زندانوں میں اسیری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو رہی ہیں مشرف دور میں علی اصغر بنگلزئی لاپتہ ہوئے اگر اسی وقت لاپتہ افراد کا مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جاتا انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوششیں کی جاتی تو بلوچستان میںآج موجودہ حالات نہیں ہوتے بلوچستان کے تمام حالات ذمہ دار ناعاقبت اندیش حکمران ہیںجنہوں نے وقتی مفادات کی خاطر دور اندیشی ، سنجیدگی ، معاملہ فہمی سے کام نہیں لیا بلکہ اقتدار کو غنیمت جان کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکا کہ وہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں دراصل یہ ملک کی نہیں اپنے مفادات کے حصول میں مصروف رہے راہشون سردار عطاءاللہ خان مینگل کی قیادت میں جب مشرف دور میں آپریشن کا آغاز کیا گیا تو پارٹی نے آپریشن ، انسانی حقوق کی پامالی ، عوام کی آواز کو بزور طاقت زیر کرنے کے خلاف واضح ، مفصل موقف رکھا آمر حکمرانوں ، سول ڈکیٹیٹروں پارلیمان یا پارلیمان سے باہر ہر دور میں موقف واضح رہا اسلام آباد کے ایوانوں ، عسکری قیادت کے سامنے پارٹی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل و دیگر پارلیمانی اراکین کے واضح موقف کے باوجود حکمرانوں کے بلوچستان کا مسئلہ سنجیدہ نہیں لیا وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ بطور وفاقی وزیر اور لاپتہ افراد کے متعلق بنائی گئی کمیٹی میں بھی بارہا یہ کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کریں تاکہ مزید بحران جنم نہ لیں آج جو بھی صورتحال ہے حالات اس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ اب خواتین و بچے ، بزرگ ، نوجوانوں سڑکوں پر ہیں سیاسی جدوجہد میں تشدد کا عناصر نقصاندہ رہا ہے سیاسی کارکن کی حیثیت سے ہمیشہ تشدد ، جارحانہ روش کی حوصلہ شکنی کی بلوچستان دیگر صوبوں کی نسبت مختلف ہیں اسٹیبلشمنٹ آج تک اس سوچ کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے ہمیشہ لاٹھی اور گولی کی سرکار کی روش اپنائی گئی مسئلوں کو حل کیا جاتا تو آج بلوچستانی عوام سراپا احتجاج نہیں ہوتے بلوچستان نیشنل پارٹی بشمول دیگر حقیقی سیاسی جماعتوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی سے متعلق واضح موقف رکھا کہ جلسہ کرنے دیا جائے لیکن جلسے سے قبل حالات کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوشش کی گئی جس کا فائدہ کچھ نہ ہوا مگر دھرنوں سے جنم لیا گوادر میں جو واقعات ہوئے اس کی باریکی بینی سے تحقیقات کی جائے فائرنگ ، شیلنگ ، گرفتاریوں کے واقعات کے کیا پیچھے محرکات سے اسے دیکھنے کی ضرورت ہے خواتین ، بچوں کے حوالے سے حالات مثبت نہیں ریاست معاملات کو دیکھے حکمرانوں جلتی پر تیل ڈالنے کی بجائے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے بلوچستان جہاں مائیں بہنیں گھروں سے نہیں نکلتی تھیں آج وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں بلوچ روایات کو بھی پامال کیا جا رہا ہے فوری طور پر خواتین ، بچوں ، بے گناہ لوگوں پر رہا کیا جائے بلوچستان کے مسئلے کو طاقت نہیں عقل و فہم سے حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ مزید بحران جنم لیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی –


