لاپتا افراد عدالتوں میں پیش نہ ہوئے تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے، لواحقین

پنجگور، خاران (نامہ نگاران) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر پنجگور اور خاران میں احتجاجی ریلی۔ پنجگور میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پرم آج تیسرے روز بھی مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال رہی، دکانیں، کاروباری مراکز، مالیاتی ادارے بند رہے، اس دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی نے فہد آصف اور دیگر کی سربراہی میں احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف سڑکوں سے ہوتی ہوئی ڈپٹی کمشنر پنجگور کے آفس تک پہنچی۔ ریلی کے شرکا نے علاقے میں موبائل سروس اور نیٹ کی بحالی اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں ریلی کے شرکا اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ علاوہ ازیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچ یکجہتی کمیٹی خاران کی جانب سے بی وائے سی گوادر راجی مچی اجتماع کے شرکا پر کریک ڈاﺅن کیخلاف شہید نواب بگٹی اسٹیڈیم تا خاران پریس کلب احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی میں خواتین بچے بلوچ لاپتہ نوجوانوں کی لواحقین و مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد میں شرکت، احتجاجی ریلی کے شرکا سے بی وائے سی کے کارکنان اور لاپتہ رحیم الدین بلوچ، خالد نواب تگاپی، سید محمود شاہ، عبدالکریم میروانی، عمران نواب، نجیب بلوچ اور لاپتہ پرویز بادینی و دیگر کے لواحقین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ گوادر راجی مچی اجتماع کیخلاف کریک ڈاﺅن حکومت کی شکست ہے، بلوچستان کے عوام ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ہر کال پر لبیک کرتے ہیں، ریاست بی وائے سی کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرے۔ انہوں نے کہا کہ خاران سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کو کسی بھی صورت منظر عام پر لایا جائے، ہمارے نوجوان کئی سال سے ٹارچر سیلوں میں اذیت ناک زندگیاں گزار رہے ہیں، ریاست اپنی ہی عدالت میں لاپتہ افراد کو پیش کرکے سامنے لائے بصورت دیگر ہم اپنی پیاروں کی بازیابی کیلئے ہر طرح کی احتجاجی تحریک چلانے سے گریز نہیں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں