گوادر اور پسنی کے صحافیوں، سیاسی کارکنان اور ماہی گیر نمائندوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی استدعا

کوئٹہ(یو این اے )گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے گوادر اور پسنی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی استدعا کردی۔اس سلسلے میں ذرائع نے دعوی کے ساتھ کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر گوادر کے زیر اہتمام ڈی آئی سی سی اجلاس میں باقاعدہ صحافیوں کے نام دیے گئے اور تجاویز دی کہ مزکورہ صحافیوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے جائیں جس پر ڈپٹی کمشنر گوادر نے ضلع اپسیشل برانچ اور ضلع گوادر کی پولیس کو صحافیوں کے ذاتی کوائف جمع کرنے کے احکامات دیے جو کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ڈپٹی کمشنر گوادر کو پیش کیے جائینگے جس کے بعد ڈپٹی کمشنر گوادر ہوم ڈیپارٹمنٹ کو مزکورہ صحافیوں کے نام فورتھ شیڈول میں رکھنے کا ریکمنڈیشن بھیجے گا۔خیال کیا جارہا ہے کہ صحافیوں کو گزشتہ ماہ گوادر میں ہونے والی بلوچ راج مچی کی رپورٹنگ کرنے کے پاداش میں بدنام زمانہ فورتھ شیڈول میں رکھا جارہا ہے زرائع نے بتایا کہ صحافیوں کے علاوہ چالیس کے قریب سیاسی کارکنان اور ماہی گیر نمائندوں کے نام بھی فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی سفارشات بھیجی گئی ہے سیاسی اور صحافتی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر گوادر کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنا اور جلسہ کی کوریج کرنے پر انکے نام فورتھ شیڈول میں رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے اظہار رائے آذادی کے خلاف ایک گھناونا حرکت قراردیا صحافتی حلقوں نے کہا کہ ایک جانب آزاد پسند زہنیت رکھنے والے لوگ سوشل میڈیا میں صحافیوں کو سرکاری آلہ کار کہہ کر انکی کردار کشی کررہے ہیں اور دوسری جانب ضلع انتظامیہ صحافیوں کو آزادی پسند پارٹیوں کا سپورٹر خیال کرکے ان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کے لیے سفارشات مرتب کررہی ہیں صحافتی حلقوں نے حکومت اور آزادی پسندوں سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنی من پسند رائے اور خبریں لگوانے کے لیے صحافیوں کو دبا میں ڈالنے کے حربے بند کردیں اور صحافیوں کو کام کرنے دیں صحافتی حلقوں نے پاکستان یونین آف جرنلسٹ اور بلوچستان یونین جرنلسٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے تمام اقدامات پر فوری احتجاج کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں