ستر سالوں سے حکمرانوں نے عوامی معاشرے کی فلاح کی طرف توجہ نہیں دی، ملک سکندر ایڈووکیٹ

کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ جب معاشرے میں سچ بولنے والا مجرم تصور،رشوت لیتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ اور ہر ادارہ اپنا آئینی وقانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بجائے مقتدر قوتوں کی رضامندی حاصل کرنے میں عافیت سمجھے تو ایسے معاشرے تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں اور کھوکھلے واقدار سے عاری معاشرے میں قوم سے محبت اور ماں جیسی دھرتی سے وفاداری سنگین مسائل پیدا کرتے ہیں۔اپنے جاری کردہ بیان میں ملک سکندرایڈووکیٹ نے خبردار کیا ہے کہ ہمارا معاشرہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور بڑی تیزی سے بھیانک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی جس معاشرے میں سچ ختم ہوجائے اور سچ بولنے کی جرات کرنے والا مجرم تصور ہو،رشوت لیتے ہوئے ذرا سی بھی شرم وحیا کا احساس نہ ہو بد عنوانی ڈنڈے کے زور پر ہو پیسوں کیلئے راستہ بنانے کیلئے چاپلوسی،چندہ خوانی ہوجائے اخلاقی اقدار تباہ ہوجائیں معا شرتی روایات ختم ہوجائیں دیانتداری کو عجوبہ سمجھا جائے،رحم کا باب بند ہوجائے اور بندوق کے زور پر پولیس کے ساتھ ملکر لوگوں کی زمینوں پر قبضے شروع ہوں سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ کا سلسلہ عروج پر ہو حکومت خزانہ سے سر عام من پسند لوگوں کو نوازاجائے حکومت کی اکائی اپنے فرائض کو خاطر میں نہ لائے ہرادارہ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بجائے مقتدرقوتوں کی رضا مندی حاصل کرنے میں اپنی عافیت سمجھے تو ایسا معاشرہ تباہی سے نہیں بچ سکتا یہ دنیا کا عام اصول ہے کہ معاشرہ دنوں یا مہینوں میں نہیں بن سکتا اور نہ ہی دنوں یا مہینوں میں بڑھ سکتا ہے ستر سال تک حکمرانوں اور مقتدر قوتوں نے پاکستان کے عوامی معاشرہ کی فلاح کی طرف توجہ نہیں دی اورنہ ہی معاشرہ نے ملک وقوم کی حفاظت کی اپنی طرف سے کوشش کی لیکن طاقتوروں کے سامنے معاشرہ اتنا کھوکھلا اور ا قدار سے عاری ہوجائے تو قوم سے محبت اور ماں دھرتی سے وفاداری کے سنگین مسئلے پیدا ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں