توہین رسالت کیس میں نوجوان نے ملزم کو جج کے سامنے گولی ماردی
رپورٹ کے مطابق پشاور کی مقامی عدالت میں توہین رسالت کیس کی سماعت کے دوران ایک نوجوان نے قادیانی گستاخ رسول شخص کو جج کے سامنے گولی ماردی
گولی لگنے سے مبینہ طور پر گستاخ کی موقع پر موت ہو گئی، نعش عدالت میں پڑی رہی، پولیس نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے ملزم گرفتارکر کے حوالات میں بند کر دیا
مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ مقتول قادیانی ہے اور واقعہ بظاہر توہین رسالت کا معاملہ لگتا یے
نوجوان نے کمرہ عدالت میں جج کے سامنے پستول نکالا اور شخص کو گولی مار دی، اس سے عدالت میں سیکورٹی کے ناقص ترین نظام بھی سامنے آیا.
توہین رسالت کیس کی مقامی عدالت میں سماعت جاری تھی، اس دوران ملزم نے گولی ماری،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ ملزم خالد نے اعتراف جرم کیا اور کہا کہ مذکورہ شخص قادیانی ہے اور حضور ص نے خواب میں کہا تھا کہ اسے قتل کرو
فائرنگ کا واقعہ ایڈیشنل سیشن جج شوکت اللہ کی عدالت میں پیش آیا،جج شوکت اللہ عدالت میں موجود تھے


