6 بجے تک کی ڈیڈ لائن، سڑکوں کی بندش پر آدھے قافلے راستے میں، پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع

لاہور میں تحریک انصاف کا پنڈال سج گیا ہے اور جلسہ دئے گئے وقت کے بجائے ڈیڑھ گنٹۃ تاخیر سے شروع ہوچکا ہے، انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کو سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت گیا ہے، اس کے باوجود جلسہ گاہ میں رہنماؤں اور کارکنوں کی آمد جاری ہے، جبکہ کئی رہنماؤں نے اپنے خطابات شروع کردئے ہیں۔پی ٹی آئی آج لاہور کے کاہنہ مویشی منڈی میں سیاسی پاور شو کر رہی ہے۔ پنڈال کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، پولیس نے رنگ روڈ پر بھی خاردار تاریں بچھا رکھی ہیں، تاہم، رکاوٹوں کے باوجود کارکن جلسہ گاہ پہنچ رہے ہیں۔ادھر انتظامیہ نے اسلام آباد لاہور موٹروے مکمل طور پر بند کردی جس کے بعد خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلوں کیلئے لاہور کے راستے بند ہوگئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کارکنوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ لاہور پہنچ رہے ہیں اور ان کے ہمراہ رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کرین بھی ہیں۔انتظامیہ کے مطابق کینٹیر کو پیچھے نکال کر دوبارہ جلسہ گاہ لانے کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے جلسہ گاہ کے پیچھے گندے پانی کا جوہڑ ہے جس کے باعث اسٹیج کے لیے کینٹینر جلسہ گاہ کے اندر پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سے ہی جلسے سے قبل مفرور کارکنان کی گرفتاری کے فیصلے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے اور پولیس نے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا ہے جبکہ کاہنہ جلسہ گاہ کو جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ جس سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہیں۔
پولیس نے رائیونڈ روڈ پر ایم پی اے تراب راشد سندھو کی گاڑی روکی، جب انہوں نے اپنا اسمبلہی رکنیت کا کارڈ دکھایا تو پولیس نے ان سے وہ کارڈ لے لیا۔ ایم پی اے کا رکنیت کارڈ واپس نہ ہونے پر گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد پولیس نے انہیں جانے کی اجازت دے دی اور گاڑی کاہنہ روانہ ہوگئی۔
تراب راشد کا کہنا تھا کہ پولیس مجھے بتائے میرا قصور کیا ہے؟ کارڈ دکھانے کے باوجود مشکل سے جانے دیا گیا ہے۔
اسلام آباد لاہور موٹروے مکمل طور پر بند کیے جانے سے لاہورملتان فیصل آباد اورائیر پورٹ جانے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنے ہے۔
موٹروے ٹول پلازہ پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ کے پی سے آنے والے قافلوں کیلئے لاہور کے راستے بند ہوگے ہیں۔
نیشنل ہائی وے این 5 پل جوڑیاں پرپل جوڑیاں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس کی نفری پہنچ گی۔ لاہورجانے والی تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں کو روک کرچیک کیا جانے لگا۔
پی ٹی آئی کا کارکنوں کولاہور جانے سے روکنے کے لئے پولیس کی جانب سے پل جوڑیاں پرناکہ لگایا گیا۔ہری پور میں قائد حزب اختلاف عمرایوب خان کی قیادت میں سیکنڑوں کارکنوں پر مشتمل قافلہ لاہور جلسے کیلئے روانہ ہوگیا۔عمر ایوب خان سمیت صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان سابق صوبائی وزیر یوسف ایوب خان اور ایم پی اے اکبر ایوب خان بھی شامل ہیں۔کارکنان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو رہا کرو قیدی نمبر804 کو رہا کرو کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسے کیلئے ہری پور کی تینوں تحصیلوں سے پی ٹی آئی کے سینکڑوں ٹائیگرز گاڑیوں میں روانہ ہوئے۔چیئرمین تحریک انصاف کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ راولپنڈی سے لاہور کیلئے روانہ ہو گیا۔روات سے روانہ ہونے والے قافلے میں عامرمغل اور شعیب شاہین بھی شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق موٹروے سے راستہ بند ہیں، جی ٹی روڈ سے لاہورآئیں گے۔پشاورموٹروے ٹول پلازہ پر پی ٹی آئی کارکنان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتظارہی کرتے رہ گئے جبکہ علی امین گنڈا پور اپنی گاڑی میں موٹروے ٹول پلازہ سے نکل گئے۔لاہور جلسے میں شرکت کے لیے خیبرپختونخوا میں تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں اور وزیراعلیٰ کے لیے تین خصوصی کنٹینرز تیار کیے گئے ہیں۔ علی امین گنڈا پور قافلے کی قیادت کریں گے جبکہ رکاوٹیں ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھی قافلے کے ہمراہ ہوگی۔لاہور جلسے کے لئے قافلے ایم ون موٹروے سے روانہ ہونگے۔ قافلوں کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کریں گے۔ قافلےموٹروے پرجمع ہوکر وزیراعلیٰ کی قیادت میں لاہور جائیں گے۔صوابی میں وزیر اعلی کارکنوں سے خطاب کرینگے اور دیگر دوسرے اضلاع کے قافلے صوابی میں مرکزی قافلے میں شامل ہونگے۔ رکاوٹیں ہٹانے کےلئے بھاری مشینری قافلوں کے ہمراہ ہوگی۔خیال رہے کہ لاہور انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کے اہم اجلاس میں پولیس رپورٹ کی روشنی میں پی ٹی آئی کو جلسے کی مشروط اجازتِ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی اجلاس میں جلسے کا مقام تبدیل اور اوقات کار بھی طے کر لئے گئے تھے۔لاہورکی ضلعی انتظامیہ نے43 شرائط و ضوابط کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کو کاہنہ میں پر جلسے کی اجازت دے دی۔ ڈپٹی کمشنر نے جلسے کی اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔جلسے کے لیے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق لاہور جلسے کا وقت 3 بجے سے 6 بجے تک ہو گا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جناب سے جاری کردہ شرائط و ضوابط میں کہا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا 8 ستمبرکو اسلام آباد میں کی گئی تقریر پر معافی مانگنی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں