بزور طاقت لائی جانے والی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے، سرداراختر مینگل

اسلام آباد،کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ روکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کا خالق کون ہے حکومتی اتحادی یا وہ قوتیں ہیں جن سے ہمیشہ اس آئین کو خطرہ رہا ہے جب تک ہمارے گمشدہ لوگ واپس نہیں آجاتے کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے ہیںیرغمالی ترامیم بچوں خواتین کی چیخ و پکار سے حاصل کرنے والی ترامیم ہے بزور طاقت خفیہ طریقے سے لائی جانے والی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے ایسی ترامیم ہے جن کو پبلک کرنے سے خود شرما رہے ہیںپارٹی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے جب تک ہمارے سینیٹر بازیاب نہیں ہوتے بلوچستان کے تمام شاہراہیں بند رہیں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس مو قع پرمرکزی سینئر نائب صدر بی این پی ساجد ترین ایڈووکیٹ، سردار اسد مینگل، نائب صدر بی این پی آغا موسی جان بلوچ، احمد نواز بلوچ، اختر حسین لانگو، ایم پی اے میر جہانزیب مینگل ایم این اے جام کریم، ٹکری شفقت لانگو، جمال مینگل، شفیع مینگل اور دیگر موجود تھے سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ یہ ایسی ترامیم ہے جن کو پبلک کرنا بھی حکمران اور اس کے طبقوں کے لیے باعث شرم ہو رہا ہے جس کو وہ خود پبلک نہیں کرنا چاہتے جس کو پبلک کرنے سے وہ خود شرما رہے ہیں وہ ائین کوئی خفیہ ڈاکومنٹس نہیں ہوتی ملک کے ہر شہری ہر باشندے چاہے وہ پڑھا لکھا ہے چاہے اس کا کسی طبقے سے تعلق ہے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ جس ملک کے آئین میں ترامیم کی جا رہی ہیں اس کے بارے میں اس کو علم ہو ان پولیٹیکل پارٹیوں کو اس کے بارے میں علم ہو ان پولیٹیکل پارٹی کے ان ورکروں کو اس کا علم ہو لیکن یہ عجیب سی بات ہے کہ ائینی ترامیم کو ایک سیکرٹ ڈاکومنٹس سمجھ کر انہوں نے اس کو خفیہ رکھا اور وہ مختلف اقسام میں جو ہے تقسیم ہو رہا ہے کبھی کسی ایک کی طرف سے ڈرافٹ ا ٓرہا ہے کبھی دوسرے کی طرف سے ڈرافٹ ا رہا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ترامیم کا خالق کون ہے ان ترامیم کا خالق کیا حکومت ہے حکومتی اتحادی ہیں اپوزیشن ہے یا وہ قوتیں ہیں جن سے ہمیشہ اس آئین کو خطرہ رہا ہے وہ قوتیں جنہوں نے ہر وقت اس آئین کو ایک کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینکا ہے جس انداز میں وہ ترامیم لانا چاہتے ہیں مختلف پارٹیوں کے ممبران کو آرساں کرنا ان کو اغوا کرنا ان کو بزور طاقت اپنی مرضی کے مطابق اس آئین میں ترامیم میں ان کا ووٹ کاسٹ کرنا تو کیا پھر ہم اس کو جمہوریت کہیں گے دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی جمہوری کی نظیرآپ کو نہیں ملے گی جو یہاں پر ڈکٹیٹرز گزرے ہیں کیا جنرل ایوب سے لے کر جنرل ضیا الحق سے لے کر جنرل مشرف تک انہوں نے بھی ریفرنڈم کرایا وہ غلط تھا چاہے اس میں دھاندلی کی گئی انہوں نے اپنی عوام سے سوال تو کیا تھا کسی کو جبری گمشدہ کر کے کسی کے بیٹے کو اغوا کرکہ کسی کے شوہر کو اغوا کر کہ کسی کی بیوی کو اغوا کرکہ اس آئین میں ان ماں بہنوں کی وہ چیخ و پکار نہیں ہوگی جو اس آئین کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں پارلیمنٹیرین کی جو ان کے کبھی اتحادی تھے جو آج بھی ان کے اتحادی ہیں اگر اتحادی نہیں ہے ان کی کولیگز تو ہیں ان کی ماں بیٹوں کو بہنوں کو اٹھا کر یا ان کے بچوں کو یرغمال بنا کر آپ آئینی ترامیم کر رہے ہیں تو پھر اس 1973 کے آئین میں ایک اور بھی شق ڈال دیں جس طرح کہ 18 ویں ترمیم کا نام دیا جا رہا ہے اس میں ایک شک ڈال دیں یرغمالی ترامیم بچوں خواتین کی چیغ و پکار سے حاصل کرنے والی ترامیم ماں بہنوں کی بددعاں والی ترامیم ہم کسی بھی ایسی آئینی ترامیم کا نہ پہلے حصہ بنے نہ بنے گی جو بزور طاقت سے ہو میں ملک سے باہر تھا مجھ سے رابطہ کیا گیا کہ جی آپ ان آئینی ترامیم میں ہمارے ساتھ دیں میں نے تو واضح کر دی میں تو بے روزگار ہوں بھائی میں نے اپنا روزگار اپ لوگوں کے حوالے کر دیا میں استعفی دے چکا ہوں مذاکرات کے دوران ہمارے سینٹ کے جو دو ممبران ہیں ان پر دبا ڈالا جا رہا تھا ان کے بچوں کو فون کر کے یا ان کو فون کر کے دھمکایا جا رہا تھا ان کے جو کاروبار ہیں ان کو بند کرنے کی کوشش کی گئی ان کا جو روزگار ہے ان کو ان سے چھیننے کی کوشش کی گئی تو میں نے اپ سے واضح طور پر کہا کہ جنرل مشرف کے دور میں گن پوائنٹ پر ہم نے کوئی مذاکرات نہیں کی اب بھی اگر مشرف ہے یا اس کا کوئی جان نشین ہے کسی بھی شکل میںہو ہم ان سے بھی گن پوائنٹ پر ہم مذاکرات نہ کیے ہیں نہ کریں گے آج بھی میں واضح کہنا چاہتا ہوں آج بھی ہمارے دونوں سینیٹرز قاسم رونجو بمائے اس کے بیٹے وہ پچھلے چار پانچ دنوں سے غائب ہیں نسیمہ احسان جس کا شوہر سید احسان شاہ جو سینٹ کا ممبر رہ چکا ہے جو صوبائی وزیر رے چکا ہے اس کو پارلیمانی لاجز میں یرغمال بنا کر اور اس کی بیوی کو مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ آپ ووٹ دیں اس کے بیٹے کو اٹھایا گیا پرائم منسٹر کے ظہرانے میں لایا گیا اس کی بیٹی اور اس کے بیٹے کو پارلیمانی لاجز میں یرغمال بنا کر ان کو پارلیمنٹ ہاوس بھیجا گیا ہے کہ جائیں پرائم منسٹر کے ظہرانے میں شرکت کریں تو یہی ووٹ کی عزت ہے اسی ووٹ کی عزت کی خاطر آپ لوگوں نے ہم کو سڑکوں پر نکالا اسی ووٹ کی عزت کی خاطر نسیمہ احسان کی فریاد آپ نے خود سینٹ کے اجلاس میں سنی ہوگی کہ وہ خاتون اس اجلاس میں بات تک نہیں کر سکتی تھی جس کا شوہر اور جس کا بیٹا ان کے قبضے میں ہے ہم تو حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بلوچستان سے جو مسنگ پرسن ہیں ان کو بازیاب کیا جائے لیکن یہاں پر جو ہمارے نمائندگان نے ان کو غائب کیے جا رہے ہیں میں نے3 ستمبرکو استعفی دیا تھا اس بات کو انہوں نے خود انڈورس کیا ہے کہ اس ملک کے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے چاہے وہ کوئی بھی ہو چاہے وہ سینٹ کا ممبر ہو چاہے صوبائی سمبلی کا ممبر ہو چاہے قومی اسمبلی کا ممبر ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور میرے خیال میں اب سب کے لیے یہ وقت آگیا ہے کہ وہی راستہ اختیار کریں جو میں نے تین ستمبر 2024 کو اختیار کیا تھامولانا اور بلاول سے بھی کہا ہے کہ ہم کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے کہ ہمیں کون سی آئینی ترامیم چاہیے اس میں ہمیں ا گر اس آئینی ترامیم میں اگر ہمیں جنت کا بھی راستہ دکھایا جائے پھر بھی ہم حصہ نہیں بنے نگے جب تک ممبران واپس نہیں آتے پھر بیٹھ کے ہم بات کریں گے ان سے پھر ہم یہ طے کریں گے کہ آیا اس ائینی ترامیم کا حصہ بنتے کہ نہیں بنتے ہے استعفی جو میں نے دیا ہے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ میراپنا ذاتی فیصلہ ہے پھر پارٹی کی سنٹر ل ایگزیکٹوکمیٹی کے جلاس میں اختیار مجھے دیا اور اختیار میرے ہاتھ میں ہے جو میں اپنے لیے دیر نہیںکیا اور ان کے لیے بھی دیر نہیں کروں گااپوزیشن میں کئی جماعتیں ایک جماعت نہیں ہے پی ٹی آئی ،پشتونخواملی عوامی ، مجلس وحدت مسلمین،ہم سب مل بیٹ کر اس پر غور کرینگے بلوچستان نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ جب تک ہمارے سینیٹر بازیاب نہیں ہوتے بلوچستان کے تمام شاہراہیں بند رینگی ہمارے لیے تو کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جا رہی جب ہمیں 2024 کے الیکشن میں وہاں سے ہمیں دھکیلا گیا پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ووٹ نہیں دیں گے اگر انہوں نے ووٹ دیا پھر اس پہ پارٹی فیصلے کرے گی ان کے خلاف کیا ایکشن لیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں